ہینڈی کرافٹ صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

November 6, 2015 1:56 pm0 commentsViews: 252

سینکڑوں کارخانے بند ہزاروں ہنر مندوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے، 22 ارب ڈالر سے گھٹ کر برآمد 2.8 ارب ڈالر ہوگئی
90 کی دہائی میں 18 فیصد زرمبادلہ کمانے والا سیکٹر 25 سال میں برآمدی ساکھ کھوبیٹھا
کراچی( کامرس رپورٹر) ہنڈی کرافٹ کی صنعت تباہی سے دو چار۔ کراچی کے سینکڑوں کارخانے بند ہزاروں ہنر مندوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے90 کی دہائی میں18 فیصد زر مبادلہ کمانے والا سیکٹر 25 سال میں وزارت کھو بیٹھا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقوں گلبہار، لیاقت آباد، اورنگی، پنجاب کالونی اور کیماڑی میں ہنڈی کرافٹ کے سینکڑوں کارخانے جو تانبے پیتل کی ظروف سازی میں بڑا نام رکھتے تھے۔ ایکسپورٹ میں بتدریج کمی سے بے نام ہوتے جا رہے ہیں جبکہ مٹی، پلاسٹر آف پیرس سے آرائشی سامان بر آمد کرنے والے ماربل کی آرائشی اشیاء تیار کرنے والے کارخانے ملکی سطح پر بر آمدی بحران کے باعث اپنی افادیت کھو رہے ہیں ذرائع کے مطابق 90 کی دہائی میں پاکستان میں ہنڈی کرافٹ کی ایکسپورٹ 22 بلین ڈالر سالانہ تھی جو گزشتہ11 سالوں میں گھٹ کر صرف 2.3 فیصد رہ گئی ہے جس کے باعث سیکٹر کی ملکی آمدنی کا حصہ صرف5 ملین ڈالر رہ گیا ہے۔ اس صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کی طرف سے پانی کی عدم فراہمی اور کے الیکٹرک کی جانب سے بھاری لوڈ شیڈنگ اور زائد بلنگ کے ساتھ ساتھ خام مال کی قیمتوں میں اضافے کے باعث چھوٹے سرمایہ کاروں کیلئے کارخانوں میں کام جاری رکھنا ممکن نہیں۔

Tags: