محکمہ تعلیم کے ایم سی میں رشوت خوری عروج پر 300 گھوسٹ ملازمین کو درست قرار دینے کی تیاریاں

November 6, 2015 2:06 pm0 commentsViews: 24

726 گھوسٹ ملازمین میں سے 300 کو بھاری نذرانوں کے عوض تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے فہرست تیار‘ تنخواہوں کی ادائیگی کراکے درست ثابت کرنے کی کوششیں
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے 1400 افراد کی ملازمت کو مشکوک قرار دیدیا‘726 ملازمین کو کلیئرنس سر ٹیفکیٹ جاری نہ ہونے کے باعث تنخواہیں روکی گئی ہیں‘ ذرائع
کراچی(سٹی رپوٹر)محکمہ تعلیم کے ایم سی میں کرپشن عروج پر، تبادلوں اور تعیناتیوں پر مبینہ بھاری نذرانوں کی وصولی کے بعدبلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف کی جانے والی تحقیقات کو بھی متعلقہ محکمے کے بعض افسران نے کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے،محکمے کے 726گھوسٹ ملازمین میں سے 300 ملازمین کی ملازمت کو مبینہ طور پر معاملات طے کر کے بھاری نذرانوں کے عیوض درست قرار دینے کی تیاری کر لی گئی ہے اور اس سلسلے میں ملازمین کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کے قریبی ذرائع کے مطابق محکمے کے تین افسران جن میں شعیب عالم،محمد رضی اور شیر علی نے ملازمین سے معاملات طے کر کے 726ملازمین میں سے 300ملازمین کو تنخواہیں ادا کر نے کے لیے ایک فہرست مرتب کر کے مذکورہ ملازمین کی ملازمت کو درست قرار دینے کے لئے محکمہ ہیومن ریسورسز کو بھیجا جا رہا ہے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مرتب کی گئی فہرست میں سے مبینہ طور پر73ملازمین سے دو ماہ کی تنخواہ اور 227ملازمین سے ایک ماہ کی تنخواہ کی وصولی کے عوض ملازمین کی ملازمت کو درست قرار دے کر ملازمین کو محکمہ ہیو من ریسورسز سے کلیئرنس سرٹیفیکٹ جاری کیا جائے گا واضح رہے کہ محکمہ تعلیم میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین کی موجودگی کی اطلاعات پر ایک وفاقی تحقیقاتی ادارہ گذشتہ کئی ماہ سے تحقیقات کر رہا ہے۔جبکہ تحقیقات کے دوران تقریبا1400افراد کی ملازمت مشکوک قرار دی گئیں تھیں ۔تاہم محکمہ تعلیم اور محکمہ ہیومن ریسورسزکے بعض افسران نے ایڈ منسٹریٹر کی ہدایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے سے ذائد رقم حاصل کرنے کے لیئے مبینہ طور پر ملازمین سے بھاری نذرانوں کے عوض بغیر چھان بین کیئے 726ملازمین کو تنخواہیں جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے کے ایم سی کے قریبی زرائع کا کہنا ہے کہ ادارے کے افسران نے ایڈمنسٹریٹر کی ہدایت کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔

Tags: