پاکستان کا یورپ سے بیدخل افراد کو واپس لینے سے انکار

November 7, 2015 1:16 pm0 commentsViews: 24

متعدد ممالک پاکستانیوں پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام لگاکر واپس بھیج دیتے ہیں‘ چوہدری نثار
حکومتی ادارے جب تک گرفتار پاکستانیوں کے بارے میں اپنی تحقیقات نہ کرلیں تو ان کو لانے والے جہاز کو اترنے نہیں دیا جائیگا‘ میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد( نیوز ڈیسک، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ غیر قانونی طور پر یورپ کا رخ کرنے والے پاکستانیوں کو وطن واپس بھیجنے سے متعلق یورپی یونین کے ساتھ ( ری ایڈمیشن ) معاہدے کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے متعدد رکن ممالک ایسے افراد پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر انہیں واپس بھیج دیتے ہیں، وفاقی وزیر نے کہا کہ مستقلبل میں جب تک حکومتی ادارے ان پاکستانیوں کے بارے میں اپنی تحقیقات نہ کرلیں اس وقت تک ان پاکستانیوں کو لانے والے یورپی ملک کے جہاز کو پاکستان کی سرزمین پر اترنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمعے کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کپرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت یورپی ممالک کو خط لکھ رہی ہے کہ اگر چہ پاکستان اس معاہدے کی پاسداری کرے گا لیکن ان افراد کو پاکستان میں اس وقت تک داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک ان افراد کے بارے میں تحقیقات نہ کر لی جائیں کہ وہ پاکستانی ہیں۔ اور ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک میں ایسے پاکستانیوں پر جو ان ملکوں کے شہری بھی ہیں، شدت پسندی کے الزمات لگا کر واپس بھجوا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پر حملہ کرنے کے الزام میں چند روز قبل جس پاکستانی کو اٹلی میں ملک بدر کیا وہ کسی طور بھی اس واقعے میں ملوث نہیں تھا اور نہ ہی اس بارے میں اٹلی کے حکام کی طرف سے کوئی شواہد پیش کئے گئے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ان یورپی ملکوں میں صرف برطانیہ اس معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے کیونکہ وہ کسی بھی پاکستانی کو ڈی پورٹ کرنے سے پہلے پاکستانی حکام سے رابطہ کرتے ہیں اور متعلقہ حکام اس کی چھان بین کپے بعد مذکورہ پاکستانی کو واپس بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس90 ہزار غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھجوایا گیا جبکہ اس ضمن میں کچھ عرصے کے دوران متعدد ممالک سے ہونے والے معاہدے کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے جس پر پاکستان کو تشویش ہے۔

Tags: