متحدہ سندھ اسمبلی میں واپسی کیلئے تیار استعفوں کی واپسی کیلئے درخواست دیدی

November 7, 2015 1:51 pm0 commentsViews: 15

سیاست میں بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے‘ توقع ہے کہ ایم کیو ایم دیگر پارلیمانی گروپوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی‘ سراج درانی
سانحہ خیرپور کے ذمہ داروں کو سزا دی جانی چاہئے‘ سندھ اسمبلی صوبے کاسب سے اعلیٰ جمہوری ایوان ہے‘ اسپیکر اسمبلی کی گفتگو
کراچی( اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ کے51 ارکان کی جانب سے جمعہ کی سہ پہر اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو تحریری طور پر یہ درخواستیں دی گئی ہیں کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل صوبائی اسمبلی کی نشستوںسے مستعفی ہونے کا جو فیصلہ کیاتھا وہ اس کو واپس لیتے ہیں اور انہیں بد ستور سندھ اسمبلی سندھ اسمبلی کا رکن برقرار رکھا جائے‘سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد کی سربراہی میں دیگر 43 ارکان نے ذاتی طور پر اسپیکر سراج درانی سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور اپنے استعفیٰ واپس لینے کی اجتماعی درخواستیں پیش کیں‘ ایم کیو ایم کے7 ارکان نے جو بیرون ملک ہیں استعفوں کی واپسی سے متعلق اپنی درخواستیں بذریعہ فیکس ارسال کی تھیں‘ جن میں عادل صدیقی‘ ارم عظیم فاروقی‘ محمد اشفاق منگی‘ خالد بن ولایت‘ محمد عدنان‘ امیر مطاہر اور رئوف صدیقی شامل ہیں۔ ایم کیو ایم کے ذرائع نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے دیگر 2 ارکان محمد حسین اور ارشد وہرہ اس وقت کراچی میں موجود نہیں ہیں وہ زلزلہ زدگان کیلئے امدادی سامان لے کر متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔ایم کیو ایم کے ارکان جب اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے چیمبر میں داخل ہوئے تو آغا سراج درانی نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر ان کا گرمجوشی کے ساتھ خیر مقدم کیا اور کہا کہ دیکھیں میری پیش گوئی آج پوری ہوگئی۔سراج درانی نے ایم کیو ایم کی جانب سے اپنے استعفیٰ واپس لینے کے فیصلہ کا بھر پور خیر مقدم کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ ایم کیو ایم سندھ کی ترقی‘ خوشحالی اور صوبے میں جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے دیگر پارلیمانی گروپوں کے ساتھ مل کر کام کریگی‘ آغا سراج درانی نے کہا کہ سیاست میں ہمیشہ آپشنز کھلے رکھے جاتے ہیں اور بات چیت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے‘ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی حیثیت سے وہ ایم کیو ایم کی جانب سے پہلے دی جانیوالی درخواستوں اور آج پیش کی جانیوالی درخواستوں کا مکمل جائزہ لیں گے اور آئندہ چند روز میں قانون کے مطابق اس پر فیصلہ کرلیا جائیگا‘ آغا سراج درانی نے سانحہ خیرپور کو افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں‘ اور جو بھی اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا جائے اس کو سخت سزا دی جائے خواہ اس میں پیپلز پارٹی کے لوگ ہی کیوں نہ ملوث نہ ہوں‘ آغا سراج درانی نے کہا کہ سندھ اسمبلی صوبے کا سب سے اعلیٰ جمہوری ایوان ہے‘ اور یہ واحد جگہ ہے کہ جہاں عوامی نمائندے اپنے حلقے کے عوام کے مسائل کیلئے موثر انداز میں آواز بلند کرسکتے ہیں۔

Tags: