سندھ فیسٹیول پانچ شہروں میں 50 کروڑ روپے خرچ کرنیکا اعلان کرکے 2 ارب روپے خرچ کردیئے گئے

November 7, 2015 1:56 pm0 commentsViews: 22

رقم کی ترسیل خفیہ ذرائع سے کی گئی‘ کروڑوں روپے سرکاری افسروں اور سیاسی شخصیات کی جیبوں میں چلے گئے
قومی خزانے کی لوٹ مار میں ملوث سیاسی شخصیات کو بے نقاب کرنے کیلئے نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا
کراچی(نیوز ایجنسیاں)نیب کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سندھ فیسٹیول کے دوران سندھ حکومت نے ابتدائی طور پر صوبے کے پانچ شہرں میں 50 کروڑ روپے خرچ کرنے کا اعلان کرکے دو ارب روپے خرچ کردیے۔ رقم کی ترسیل خفیہ ذرائع سے کی گئی، کروڑوں روپے سرکاری افسروں اور سیاسی شخصیات کی جیبوں میں چلے گئے۔ دوستوں اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کو بھی نوازا گیا۔ جبکہ غیرقانوی سمری کو منظور کرانے کے لیے راتوں رات نیا سیکریٹری تعینات کرنے میں ملوث سیاسی شخصیات کوبے نقاب کرنے کے لیے نیب نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا۔ تحقیقات کے مطابق سندھ حکومت نے گزشتہ سال یکم سے پندرہ فروری کے درمیان صوبے کے پانچ شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور ٹھٹھہ میں سندھ فیسٹیول کی تقریبات کا انعقاد کرنے کے منصوبے کا آغاز بلاول بھٹو کی منظوری کے بعد کیا تھا۔ منصوبے کی ابتداء میں ہی سندھ حکومت کی خصوصی معاون برائے کلچر اور منصوبے کے پروجیکٹ منیجر کے درمیان خرچ کی جانے والی رقم کے بارے میں تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ سندھ حکومت کی خصوصی معاون برائے کلچر شرمیلا فاروقی نے کہا تھا کہ منصوبے کے لیے 25 کروڑ روپے سندھ حکومت دے گی جبکہ اس منصوبے کے پروجیکٹ منیجر فخر عالم ے ان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 15 کروڑ روپے سندھ حکومت کا کلچر ڈپارٹمنٹ دے گا اور 35 کرو روپے اسپانسرز سے حاصل کیے جائیں گے۔ نیب ذرائع کے مطابق جب سندھ فیسٹیول شروع ہوا تو اس کے اخراجات 50 کروڑ روپے سے بہت زیادہ بڑھ گئے اور دو ارب تک جاپہنچے۔ فیسٹیول کے دوران پہلی بار سندھ کے پانچ شہروں کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور ٹھٹھہ میں رات دس بجے آتش بازی کا مظاہرہ کیا جاتا، اس آتش بازی کے لیے بھی حکومتی شخصیات کے قریبی دوستوں کو نوازا گیا اور لاکھوں روپے ادا کیے گئے۔ کروڑوں روپے خرچ کرکے چار انکلیو بنائے گئے جن کے نام سندھ انکلیو، انٹرنیشنل انکلیو، فوڈ انکلیو اور چلڈرن انکلیو رکھے گئے۔ اس دوران صوفی نائٹ، مشاعروں ، غزل نائٹ ، کرکٹ ٹورنامنٹ، ہارس اینڈ کیٹل پرکس، بسنت نائٹ اور دوسری تقریبات کے نام پر کاغذوں میں کروڑوں روپے خرچ کرکے دوستوں اور سیاسی افراد کو نوازا گیا۔ ذرائع کے مطابق چالیس کروڑ روپے پیپلزپارٹی کی اہم شخصیت کے قریبی دوست کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی کو ادا کیے گئے اور اس کے بعد اس سے بھاری رقم کمیشن میں لی گئی۔ ذرائع کے مطابق نیب اس بارے میں بھی تفتیش کررہا ہے کہ بلاول بھٹو نے سندھ فیسٹیول کے لیے تمام رقم پارٹی فنڈز سے ادا کرنے کا کہا تھا تو پھر سرکاری خزانے سے رقم ادا کرنے کا حکم کس نے دیا۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے تفتیش کا دائرہ آگے بڑھے تو کئی اہم شخصیات کے نام بھی اس اسکینڈل میں سامنے آئیں گے۔

Tags: