کراچی میں ’’را‘‘ کے 200دہشت گردوں کی موجودگی کا انکشاف

November 9, 2015 5:10 pm0 commentsViews: 21

حساس ادارے نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے ’’سلپنگ سیل‘‘ کے دہشت گردوں، علیحدگی پسندوں، ان کے مالی سرپرستوں اور سہولت کاروں کا سراغ لگا لیا
شہر میں دہشت گردوں کے مالی سرپرستوںکی تعداد300 سے زیادہ ہے، جبکہ علیحدگی پسندتنظیموں کے سہولت کاروں اور رابطہ کاروں کی تعداد100 سے زائد بتائی جاتی ہے، جن کے بارے میں ٹھوس شواہد حاصل کیے گئے ہیں
وفاقی حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملتے ہی ان پر ہاتھ ڈالاجائے گا، کراچی میں کائونٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) کو شہر سے ’’را‘‘ کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے خصوصی ٹاسک دے دیا گیا، انٹیلی جنس ادارے بھی فعال ہوگئے
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی میں حالات بہتر بنانے اور شہر میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سمیت علیحدگی پسند،  دہشت گردوں اور گینگ گروپوں و ٹارگٹ کلر کے خاتمے کیلئے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ دوسری طرف حساس ادارے نے کراچی میں موجود بد نام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپنگ سیل اور دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان مخالف علیحدگی پسندوں کے مالی سرپرستوں اور سہولت کاروں کے خلاف ٹھوس شواہد اور معلومات حاصل کر لیں ، را کے سلیپنگ سیل میں شامل دہشت گردوں کی تعداد200 کے قریب اور دہشت گردوں کے مالی سرپرستوں  کی تعداد300 سے زائد ہے جبکہ علیحدگی پسند تنظیموں کے سہولت کاروں اور رابطہ کاروں کی تعداد100 سے زائد بتائی گئی ہے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حساس ادارے نے رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔ گرین سگنل ملتے ہی تمام افراد پر ہاتھ ڈال دیا جائے گا دوسری جانب سی ٹی ڈی سمیت دیگر سیلوں کو بھی را نیٹ ورک کے خاتمے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ واضح  رہے کہ سی ٹی ڈی کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران درجن سے زائد نیٹ ورک کے دہشت گردوں کی گرفتاری ظاہر کی جا چکی ہے۔ انتہائی با خبر ذرائع کے  مطابق ملکی سلامتی پر مامور  حساس ادارے نے شہر میں آپریشن کلین اپ مہم کو موثر بنانے اور دہشت گردوں، ٹارگٹ کلنگ کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے اگلے مرحلے میں دہشت گردوں، مالی سرپرستوں اور سہولت کاروں ، رابطہ کاروں پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جبکہ بد نام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک سے جڑے سلیپنگ  سیل میں شامل دہشت گردوں کو بھی قانون کے شکنجے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ملکی سلامتی سے متعلق کئی ایجنسیوں نے مربوط رابطے کے ذریعے را نیٹ ورک کے سلیپنگ سیل کا سراغ لگانے کے ساتھ اس میں شامل دہشت گردوں  کے بارے میں ٹھوس شواہد اور معلومات حاصل کر لی ہیں جبکہ ملک دشمن دہشت گردوں اور علیحدگی پسند تنظیموں کے مالی سرپرستوں اور سہولت کاروں  کے بارے میں بھی اپنا ہوم ورک مکمل  کر لیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ بھارتی  خفیہ ایجنسی را نے نیٹ ورک کو کئی سالوں میں تیار کیا تھا جس میں200 سے زائد دہشت گرد شامل ہیں جو کہ مختلف محکموں ، اداروں، اور دیگر شعبہ زندگی میں موجود اور خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ تما م دہشت گرد صرف بھارتی ایجنسی کی جانب سے ملنے والے خفیہ پیغام کے تحت مشن مکمل کرتے ہیں  جبکہ شہر میں ہونے والے دیگر واقعات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے ذرائع نے مزید کہا کہ حساس ادارے نے کالعدم تنظیموں کے دہشت گردوں کی مالی سرپرستوں کے ساتھ سہولت کاروں کے بارے میں بھی شواہد حاصل کئے ہیں جس کے تحت سہولت کار یا مالی سرپرستوں کے ساتھ سہولت کاروں کے بارے میں بھی ٹھوس شواہد حاصل کئے ہیں جس کے تحت سہولت کار یا مالی مدد گار مختلف کاروبار سے وابستہ ہیں جو تنظیموں کو بھاری مالی مدد فراہم کرنے کے ساتھ دہشت گردوں کو اپنی رہائش، نوکری اور محفوظ راستہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ زیادہ تر مالی مدد گار چھوٹے پیمانے پر کاروبار  کرتے ہیں  اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ کالعدم تنظیموں کو باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں اور ان کی تعدد 300 کے لگ بھگ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ حساس ادارے نے ملک دشمن علیحدگی پسند تنظیموں کے بھی مالی مدد گاروں اور سہولت کاروں کے ساتھ رابطہ کاروں کا سراغ لگا لیا ہے جس کے تحت ان مالی مدد گار بیرون ملک میں موجود سہولت کار مختلف کاروبار  سے وابستہ ہیں  جس میں سر فہرست ٹرانسپورٹ کا شعبہ ہے جبکہ رابطہ کاروں کی بڑی تعداد مختلف نجی اداروں میں موجود ہے جو کہ پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے بیرون ملک  موجود افراد سے مختلف ذریعے سے رابطے میں رہتے ہیں جبکہ ان کی تعداد100 سے زائد بتائی گئی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حساس ادارے نے کئی ماہ کی محنت سے تیار شدہ  مفصل رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کر دی ہے اور گرین سگنل ملتے ہی ہاتھ ڈالنے کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ دوسری جانب محکمہ پولیس میں موجود سیلوں کو بھی نیٹ ورک کے خاتمے کا ٹاسک سونپا جا چکا ہے اور سی ٹی ڈی کی جانب سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران را نیٹ ورک سے جڑے ایک  درجن سے زائد دہشت گردوں  کی گرفتاری بھی ظاہر کی جا چکی ہے۔

Tags: