شہرکے بیشتربازاروں میں گندگی کے ڈھیر، خریدار اور تاجر پریشان

November 9, 2015 5:24 pm0 commentsViews: 24

کچرے اور سیوریج کے جوہڑوں سے آنے جانیوالوں کو پریشانی کا سامنا، واٹربورڈ کا کمپلینٹ سینٹر 1339 دس سال سے غیرفعال
صدر زیب النساء اسٹریٹ، لیاقت آباد، ناظم آباد، میٹھادر اور کھارادر سے ہزاروں شکایات کے باوجود کارروائی کا فقدان
کراچی( کامرس رپورٹر) شہر کے بیشتر بازاروں اور مارکیٹوں میں کچرے کے ڈھیر اور سیوریج کے جوھڑوں کے باعث خریداروں اور تاجروں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا واٹر بورڈ کمپلینٹ سینٹر1339 گزشتہ 10 سال سے غیر فعال شہری اپنی مدد آپ کے تحت صفائی کرنے پر مجبور تفصیلات کے مطابق ابلتے گٹر اور شاہراہوں پر کھڑے گندے پانی کے تالابوں کی صورت حال وقت گذرنے کے ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہیں۔ صدر زیب النساء اسٹریٹ، لیاقت آباد، ناظم آباد، میٹھا در، کھارا در، ٹمبر مارکیٹ، سمیت متعدد کمرشل ایریاز میں سیوریج کے پانی اور کچرے کے ڈھیر کی ہزاروں شکایات کمپلینٹ سینٹر کوملنے کے باوجود عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ، کراچی سے یومیہ15 ٹن کچرا نکلتا ہے جسے ٹھکانے لگانے کیلئے واٹر بورڈ کے پاس فنڈز موجود نہیں تاجروں کا کہنا ہے کہ مسلسل شکایات کے باوجود مسئلے کا ذمہ دار کوئی ہے۔ شہر میں صاف پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی، آوارہ کتوں کا صفایا، مچھر مار اسپرے مہم، درختوں کی چھٹائی، کچرا کنڈیوں کی صفائی، ذمہ دار ادارے کمپلینٹ سینٹر پر کال کے بعد فوراً حرکت میں آتے تھے اور اب ہزاروں کالوں کے باوجود کوئی ایکشن لینے کیلئے تیار نہیں۔

Tags: