لیاقت آباد‘ پتنگ کی خونی ڈور نے 4 بہنوں کے اکلوتے بھائی کی جان لے لی ۔ دیگر حادثات و واقعات میں مزید ہلاک و زخمی

November 9, 2015 5:33 pm0 commentsViews: 18

آٹھ سالہ معیز حسین لیاقت آباد انڈر پاس کے قریب پتنگ لوٹنے کی کوششوں میں مصروف تھا اچانک ڈور گلے پر پھر گئی
شدید زخمی حالت میں عباسی اسپتال لے جایا گیا جہاں معیز دم توڑ گیا کار ساز پر نامعلوم گاڑی سے موٹر سائیکل سوار ہلاک ہوگیا
کراچی(کرائم رپورٹر)لیاقت آباد میں پتنگ کی ڈور سے شہہ رگ کٹ جانے سے12سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔تفصیلات کے مطابق سپر مارکیٹ کے علاقے لیاقت آباد نمبر8انڈر پاس کے قریب پتنگ کی ڈور سے شہہ رگ کٹ جانے سے8سالہ محب حسین ولد نثار حسین شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طبی امداد کیلئے عباسی اسپتال پہنچایا گیا ،جہاں وہ دوران علاج چل بسا ،علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق متوفی اپنے کزن کے ہمراہ موٹر سائیکل پر اپنے اسکول کے دوست کے گھر سے کاپی لیکر آرہا تھا کہ اچانک بچے کی شہہ رگ پر پتنگ کی ڈور پھر گئی ،متوفی ساتویں جماعت کا طالب علم تھا ،متوفی کی نماز جنازہ علاقے کی مسجد میں ادا کئے جانے کے بعد لیاقت آباد نمبر4کے قبرستان میں میت کی تدفین کردی گئی ،اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے ،بچے کے والدین پر غشی کے دورے پڑرہے تھے اور ہر آنکھ اشکبارتھی ، ایس ایچ او سپر مارکیٹ جاوید سکندر کا کہنا ہے کہ متوفی بچہ کے ساتھ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ پتنگ لوٹنے کی کوشش کررہا تھا ،واضح رہے کہ لیاقت میں اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے ہیں لیکن صوبائی گورنمنٹ اور لوکل گورنمنٹ کی جانب سے پتنگ کے ڈور سے ہونے والے حادثات سے بچنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے اور نا ہی پولیس کی جانب سے پتنگ اڑانے والے افراد کو پکڑنے کی کوئی کوشش کی گئی۔

کارساز میں نامعلوم گاڑی کی
ٹکر سے موٹر سائیکل سوار ہلاک
کراچی(کرائم  رپورٹر)کار ساز کے قریب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان ہلاک ہوگیا، تفصیلات کے مطابق بہادرآباد تھانے کے علاقے کار ساز کے قریب ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 24 سالہ حمزہ ولد معروف ہلاک ہوگیا، متوفی کی لاش کو قریبی اسپتال لے کر گئے جہاں سے ورثاء بغیر کسی کارروائی کے لاش اپنے ہمراہ لے گئے پولیس واقعہ سے لاعلمی ظاہر کررہی ہے۔

لانڈھی میں مشتعل شہریوں کے تشدد سے ڈاکو ہلاک
ملزم کی لاش شہریوں کے چنگل سے نکالنے کی جدوجہد میں پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھٹ گئیں
کراچی(کرائم رپورٹر) لانڈھی میں گھر کے اندر لوٹ مار کیلئے داخل ہونے والے2 ملزمان شور شرابے پر بھاگ نکلے،مکینوں نے تعاقب کیا تو ملزمان کی فائرنگ سے2 شہری زخمی ہوئے،مشتعل شہریوں نے ایک ملزم کو دبوچ کر تشد د کا نشانا بناکر ہلاک کردیا اور اسے جلانے کی کوشش کی اس دوران پولیس نے ملزم کی لاش مشتعل شہریوں کے چنگل سے جدوجہد کے بعد نکالی اس دوران پولیس کی وردیاں بھی پھٹ گئی۔تفصیلات کے مطابق لانڈھی کے علاقے برمی کالونی 36/Gمیں رہائش پذیر علی احمد نامی شخص کے گھر دو ملزمان ڈکیتی کی نیت سے  داخل ہوئے،ایس ایچ او لانڈھی احمد بٹ کے مطابق اس دوران گھر میں موجود خواتین اور بچوں نے شور مچادیا اس دوران دونوں ملزمان گھبرا گئے اور لوٹ مار کی واردات کیے بغیر گھر سے نکل کر بھاگے اس دوران پڑوسیوں سمیت اہل محلہ بھی جمع ہوگئے اور انہوں نے دونوں ملزمان کو پکڑنے کیلئے ان کا تعاقب کیا ،اس دوران ملزموں کی فائرنگ سے تعاقب میں آنے والے دو شہری 15 سالہ محمود ولد حامد اور 50 سالہ سلمان ولد حیدر زخمی ہوگئے،جس پر مکین اور مشتعل ہوگئے اور ایک ملزم کو کورنگی دارالعلوم کے قریب دبوچ لیا،جبکہ دوسرا ملزم فرار ہوگیا،پکڑے گئے ملزم سے شہریوں نے پستول چھین کر شدید تشدد کا نشانا بنا کر اسے ہلاک کردیا اور پیڑول چھڑک کر اس کی لاش کو جلانے کی کوشش کی،ایس ایچ او کے مطابق اس دوران پولیس نے شہریوں کے جنگل میں پھنسی ملزم کی لاش کو سخت جدوجہد کے بعد نکال اس دوران پولیس اہلکاروں کی وردیاں بھی پھٹ گئی،بعدازاںملزم کی لاش کارروائی کیلئے اسپتال منتقل کی گئی۔

گلشن اقبال میں موبائل پر فائرنگ ، یاسین آباد میں نوجوان قتل
گلشن شمیم کے پاس مسلح افراد نے فائرنگ کرکے شیعہ نوجوان کو قتل کر دیا جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی
مسکن چورنگی کے قریب رکنے کے اشارے پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پولیس موبائل پر فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے
کراچی(اسٹاف رپورٹر) عزیز آباد کے علاقے یاسین آباد میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک اہل تشیع شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے،واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی،گلشن اقبال میں دہشت گردوں نے پولیس موبائل پر فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق عزیز آباد کے علاقے یاسین آباد گلشن شمیم کے پاس نامعلوم دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کردی اور فرار ہوگئے،ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں 43سالہ حیدر علی نامی شخص ہلاک اور دو افراد زخمی ہوئے اور علاقہ سے ملنے والی اطلاع کے مطابق مقتول وقوعہ سے قبل گلشن اقبال بلاک 13 سے اپنے ہمراہ ذوالجناح لے کرمذکورہ مقام پر پہنچا تھا کہ اسے دہشت گردوں نے نشانا بنایا،واقعے کی اطلاع پا کر شیعہ کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موقع پر جمع ہوگئے اور واقعے کے خلاف نعرے بازی شروع کردی،جس کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی، پولیس ذرائع کے مطابق مذکورہ قتل فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا شاخسانہ ہے۔ادھر  گلشن اقبال تھانے کی حدود مسکن چورنگی کے قریب گلشن اقبال تھانے کی تھرڈ پولیس موبائل گشت پر مامور تھی کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان کو رکنے کا اشارہ کیا تو ملزمان نے پولیس موبائل پر فائرنگ کر دی اور فرار ہو گئے تاہم خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا،پولیس مطابق ملزمان نے پولیس موبائل پر فائرنگ نہیں کی بلکہ انکے نہ رکنے پر پولیس نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔

منگھوپیر میں مقابلے کے دوران ہلاک دہشت گرد طالبان کارندے نکلے
دونوں کا تعلق طالبان سواتی گروپ سے تھا، وزیرستان میں آرمی کے جوانوں کے قتل میں بھی ملوث ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر)منگھوپیر کے علاقے ناردن بائی پاس کانو ہوٹل کے قریب پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے دونوں دہشت گردی کی شناخت جہانگیر خان اور عبدالرحمان کے نام ہوگئی، ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے قبضے سے پولیس نے 1 شاٹ گن 12 بور، دھماکہ خیز مواد، 20 کلو گرام نٹ بولڈ اور 20 کلو گرام بال بیرنگ برآمد کرلیے تھے ، اس ضمن میں ایس ایچ او غلام حسین کورائی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونیوالے دونوں دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سواتی گروپ سے تھا ، دونوں دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کراچی کے کمانڈر عابد مچھڑ اور حاجی داد محمد محسود کے قریبی ساتھی تھے ، مقابلے میں ہلاک ہونے والے ملزمان نے وزیرستان میں پولیس اہلکار ، رینجرز اور پاکستان آرمی کے جوانوں کے قتل میں ملوث ہیں ، اور وہ دونوں ازبکستان اور وزیرستان سے تربیت لے کر آئے تھے اور کراچی میں کسی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہی تھے کہ پولیس نے انٹیلی جینس اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے مقابلے کے بعد دونوں ملزمان کو ہلاک کردیا، ملزمان شہر میں تحریک طالبان کے نام پر تاجروں سے بھتہ وصول کرکے کالعدم تحریک طالبان کراچی کے کمانڈر عابد مچھڑ اور حاجی داد محمد محسود کو دیتے تھے ، جہانگیر پیرآباد کے علاقے قصبہ کالونی کا رہائشی اور عبدالرحمان لانڈھی کا رہائشی تھا اور یہ لوگ کچھ ماہ قبل ہی وزیرستان سے کراچی آئے تھے ، پولیس نے قانونی کارروائی کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کردی۔