کسٹم حکام کا الیکٹرانکس مارکیٹ میں آپریشن 12 دکانوںکو سیل کردیا گیا

November 9, 2015 5:49 pm0 commentsViews: 34

رینجرز کی بھاری نفری کے ہمراہ مارکیٹ کا محاصرہ کرکے تلاشی لی گئی دکانداروں پر لاٹھی چارج بھی کیا گیا
پانچ گھنٹے تک کارروائی کی گئی کوئی غیر قانونی سامان برآمد نہیں ہوا‘ کسٹم حکام نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے‘ ادریس میمن
کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی کے علاقے صدرمیں واقع موبائل مارکیٹ میں رینجرز اور کسٹم حکام نے اسمگل شدہ موبائل فون کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی۔ کاروائی کے دوران متعدد دکانوں کو سیل کردیا گیا ۔صدر موبائل مارکیٹ میں رینجرز اور کسٹم کے پریونشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسمگل شدہ موبائل فون کی موجودگی کی اطلاع پر ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔کارروائی کے دوران عمارت کا محاصرہ کیا گیا اور دکانوں اور گوداموں کی تلاشی لی گئی۔آپریشن کے دوران مقامی تاجروں نے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کو رینجرز اہلکاروں نے لاٹھی چارج کر کے ناکام بنا دیا۔اس ضمن میں کراچی الیکٹرونکس ڈیلرزایسوسی ایشن کے سابق صدر محمدادریس میمن نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مطلوبہ دستاویزات نہ ملنے پر بارہ دکانوں کو سیل کیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں موبائل فون اور دیگر اشیا موجود ہیں تاہم سیل کی گئی دکانوں سے کوئی غیرقانونی سامان برآمد نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ رینجرز سے مکمل تعاون کیا گیا ہے۔ تاجروں میں موجود کالی بھیڑوں کا سفایا ہونا چاہئے۔ ادریس میمن نے مزید کہا کہ کسٹم پریونشن ڈیپارٹمنٹ کا کام پورٹ پر ہوتا ہے۔ تاہم پانچ گھنٹے تک کارروائی جاری رہنے کے بعد آپریشن ختم کر دیا گیا جس کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔ اس دوران کسٹم ٹیم کو کچھ بھی نہیں مل سکا جو موبائل فونز وہ اپنے ساتھ لے گئے ان کے کاغذات بھی دکھائے گئے لیکن انہوں نے کہا کہ یہ کاغذات دفتر آکر دکھائے جائیں ‘ادریس میمن نے کہا کہ کسٹم ٹیم نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے‘ احتجاج اور قانونی کارروائی کیلئے حکمت عملی تیار کررہے ہیںادریس میمن کہا کہ غیر قانونی کارروائی پر رینجرز کو بھی ساتھ لایا گیا تھا جس سے رینجرز کی نیک نامی بھی متاثر ہوئی ہے‘ ڈی جی رینجرز کو اس بارے میں سوچنا چاہئے۔

Tags: