کراچی ایئرپورٹ سے ماہانہ اربوں روپے کی غیرملکی کرنسی کی اسمگلنگ

November 10, 2015 4:58 pm0 commentsViews: 25

کسٹم اور ایف آئی اے اہلکاروں کی سرپرستی میں 50 سے زائد کھیپیے کام کررہے ہیں جو غیرملکی کرنسی بیرون ملک لے کر جاتے ہیں اور وہاں سے الیکٹرانک اشیاء لاتے ہیں

کراچی ایئرپورٹ سے سفر کرنے والے کھیپیوں کو گولڈ کارڈ کی سہولت بھی میسر ہے، یہ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور اہم شخصیات کے 30 ہزار ڈالر تک لے جاتے ہیں
کسٹم اور ایف آئی اے حکام معاہدے کے تحت اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے ہر ماہ دو سے تین افراد کو گرفتار کرکے کچھ سامان اور چند ہزار ڈالر کی برآمدگی ظاہر کردیتے ہیں، کرنسی اسمگلنگ کا کام منظم طریقے سے جاری ہے
کراچی ایئرپورٹ پر انسانی اسمگلنگ کی شکایت بھی عام ہوگئی، بڑے بڑے تاجروں کی سفارش پر انٹرنیشنل گروپ انچارج لگایاجارہا ہے جس سے مخصوص کام لیے جارہے ہیں، ایماندار افسران پریشان
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی سے ماہانہ اربوں ڈالر کی غیر ملکی کرنسی  بیرون ممالک اسمگل کی جا رہی ہے کسٹم اور ایف آئی اے کی سرپرستی میں کھیپیے غیر ملکی کرنسی کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں اخباری رپورٹ کے مطابق  کسٹم اور ایف آئی اے اہلکاروںکی سرپرستی میں کراچی سے ماہانہ  اربوں ڈالر کے مساوی غیر ملکی کرنسی بیرون ملک منتقل کی جا تی ہے۔ 50 سے زائد کھیپیے بیرون ملک جاتے  ہیں اور غیر ملکی کرنسی وہاں دے کر واپسی پر الیکٹرونک اشیاء لاتے ہیں جو شہر کی مارکیٹس تک پہنچائی جاتی ہیں۔ کھیپی اہم شخصیات کی رقوم بیرون ملک منتقل کرتے ہیں اور ان کھیپیوں کو کسٹم  اور ایف آئی اے امیگریشن حکام کی سرپرستی حاصل ہے۔ کارکردگی ظاہر کرنے کیلئے ہر ماہ تین افراد کو گرفتار کرکے کچھ سامان اور چند ہزار ڈالر ظاہر کر دیے جاتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کراچی ایئر پورٹ سے سفر کرنے والے کھیپیوں کو گولڈ کارڈ کی سہولت بھی میسر ہے۔ ذرائع نے تایا کہ کسی بھی شہری کو دو ماہ کے دوران10 ہزار ڈالر تک بیرون ملک ساتھ لے جانے کی اجازت ہے جس کیلئے مسافر کو کسٹم حکام کے پاس فارم بھی جمع کروانا پڑتا ہے۔ جن کھیپیوں کو حکام کی سرپرستی حاصل ہے وہ ہفتے میں دو سے تین مرتبہ بیرون ملک سفر کرتے ہیں اور اس دوران ہر بار اہم شخصیات کے تیس ہزار ڈالر تک لے جاتے ہیں۔ انہیں ایف آئی اے امیگریشن حکام روکتے ہیں نہ کسٹم اہلکار کسی طرح کی پوچھ گچھ کرتے ہیں۔ دوسری طرف کراچی ایئر پورٹ سے انسانی اسمگلنگ کی شکایات عام ہوگئی ہیں۔ ایس آئی اے امیگریشن انٹر نیشل گروپ انچارجز و دیگر کی ملی بھگت سے اٹلی اور امریکا جانے والے 3 پاکستانی پکڑنے کے بعد واپس بھیج دئے گئے جن میں سے ایک کو چھوڑ دیا گیا اور گروپ انچارجز کو کارروائی سے بچانے کیلئے تبادلہ کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کے مرتکب پولیس والوں کو ایف آئی اے امیگریشن میںلوٹ مچانے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ بڑے بڑے تاجروں  کی سفارش پر انٹر نیشنل گروپ انچارج لگائے جا رہے ہیں جن سے مخصوص کام لئے جا رہے ہیں اور شکایات پر کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ مخصوص گروپ سے تنگ آکر ایک خاتون امیگریشن  افسر نے اپنا استعفیٰ جمع کرا دیا ہے اور ایف آئی اے  کے سینئر و تجربہ کار 15 افسران نے امیگریشن سے تبادلے کیلئے درخواستیں جمع کرانا شروع کر دی ہیں۔ پولیس سے ایف آئی اے میں جانے والے ڈائریکٹر شاہد حیات کی ایما پر متعدد افسران پولیس سے ایف آئی اے میں ڈیپوٹیشن پر آرہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈیپوٹیشن پر آنے والے پولیس والوں سے ایف آئی اے امیگریشن کراچی ایئر پورٹ پر خصوصی کام لئے جار ہے ہیں اور انسانی اسمگلنگ کی شکایات عام ہیں۔

Tags: