پریڈی ٹریفک سیکشن لفٹنگ چارجز کے لاکھوں روپے افسران کی جیبوں میں جانے لگے

November 10, 2015 4:59 pm0 commentsViews: 17

روزانہ نو پارکنگ سے 300 سے زائد گاڑیاں اٹھاکر چارجز وصول کئے جاتے ہیں مگر کاغذات میں15 سے 20 گاڑیاں ظاہر کی جاتی ہیں
موٹر سائیکل پر 300 روپے اور کار پر 1000 روپے کے چارجز وصول کئے جاتے ہیں مگر کوئی رسید نہیں دی جاتی
کراچی( کرائم رپورٹر) کراچی پریڈی ٹریفک سیکشن  کرپشن کا گڑھ بن گیا۔ حکومت سندھ کو لفٹنگ  چارجز یومیہ لاکھوں روپے  کا ٹیکہ، تفصیلات کے مطابق پریڈی ٹریفک سیکشن کرپشن اور اندھی کمائی کا گڑھ بن گیا ہے۔ جس سے حکومت کو لفٹنگ چارجز کی مد میں آنے والے لاکھوں روپے یومیہ افسران کی جیب میں جا رہے ہیں۔ اور اس سے حکومت سندھ کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگ رہا ہے۔ پریڈی ٹریفک سیکشن پولیس کو پارکنگ سے یومیہ300 سے زائد موٹر  سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھا کر چارجز وصول کئے جا تے ہیں۔ جبکہ سرکاری کاغذوں میں 15 سے20 گاڑیاں ظاہر کی جاتی ہیں۔ پریڈی پولیس کی جانب سے موٹر سائیکل کی نو پارکنگ کیلئے300 روپے اور کار کیلئے1000 روپے وصول کئے جاتے ہیں جب کہ ان چالان کی کوئی رسید نہیں دی جاتی ہے۔ اور با خبر ذرائع نے بتایا کہ  لفٹنگ چارجز کی مد میں آنے والے لاکھوں روپے اوپر سے نیچے تک بانٹے جاتے ہیں۔ جس پر کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے۔ ڈی آئی جی امیر شیخ عوام کو ٹریفک قوانین پر عمل در آمد کرانے کیلئے ہر روز کوئی نہ کوئی ترکیب لڑا رہے ہوتے ہیں انہیں اپنے محکمے کی سمت درست کرنے کیلئے بھی کوئی ترکیب سوچنی ہوگی،  با خبر ذرائع نے بتایا کہ ڈی آئی جی ٹریفک تو فنڈ سمیت چارجڈ پارکنگ اور لفٹنگ چارجنگ کے پیسے وصول کرتے ہیں اور آتے ہوئے پیسے کسے برے لگتے ہیں۔

Tags: