بلدیاتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ سانحہ خیرپور کے ردعمل کا خدشہ‘ فوج اور رینجرز سے مدد طلب

November 10, 2015 5:24 pm0 commentsViews: 24

حیدر آباد ڈویژن میں 230 مقامات پر تصادم کا خدشہ ہے‘ بعض سیاست دانوں نے خونریزی سے متعلق بیانات دیئے ہیں
انتخابات سے قبل تمام تر انتظامات کو یقینی بنایا جائے‘ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے‘ سیکریٹری کمیشن
حیدر آباد( خبر ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان بابر یعقوب فتح محمد نے کہا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں سانحہ خیر پور کے رد عمل سے بچنے کیلئے سندھ حکومت فوج اور رینجرز کی مدد حاصل کرے۔ دوسرے مرحلے میں شامل تمام15 اضلاع کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران نے فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج کی تعیناتی ممکن نہیں، سندھ کے 2500 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس ہیں۔ حیدر آباد ڈویژن میں 230 مقامات پر تصادم کا خدشہ ہے۔ خیر پور سانحے کا رد عمل سانگھڑ میں دہرایا جا سکتا ہے۔ کچھ سیاستدانوں کی جانب سے خونریزی سے متعلق بیانات آئے جس کے بعد بدین کے سیاسی صورتحال دیکھتے ہوئے اسے حساس قرار دیا گیا ہے، حیدر آباد  میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں سیکورٹی انتظامات سے متعلق اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی الیکشن کمشنر تنویر ذکی، ڈی آر اوز، پاک فوج کے نمائندوں، آئی جی سندھ پولیس اور دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام میں 5 اضلاع حیدر آباد، نوشہرو فیروز، بدین، ٹھٹھہ اور سانگھڑ میں فوج تعینات کرنے کی تجویز دی گئی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب فتح نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کا حتمی فیصلہ کل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ اسلحے کی نمائش کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تا کہ انتخابات پر امن ماحول میں ہو سکے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن  نے دوسرے مرحلے میں سانحہ خیر پور جیسے واقعات سے بچنے کیلئے متعلق  ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور پولیس افسران کوہدایت کی وہ سیکورٹی کے ہر ممکن انتظامات  کو یقینی بنائیں اور حساس ترین اور حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کئے جائیں اور اگر ضرورت ہو تو رینجرز کے علاوہ پاک فوج کی خدمات بھی لی جائیں ۔ انہوں نے ڈی آر اوز  کو ہدایت کی کہ وہ انتخابات سے قبل تمام تر انتظامات کو یقینی بنائیں تا کہ تاخیر سے پولنگ شروع ہونے ،  بیلٹ پیپرز کی کمی اور دیگر انتخابی مواد کی کمی یا تاخیر سے ترسیل جیسے مسائل سے بچا جا سکے جوکہ اکثر نقص امن کا سبب بنتے ہیں ۔ڈی آر اوانتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنیوالے افراد کے خلاف بغیر دبائو  کارروائی کریں۔  حزب اختلاف کی جماعتوں کے لوگوں سے بھی بلا جھجھک ملاقاتیں کریں اور اگر انہیں کسی قسم کی شکایات ہیں تو انکا ازالہ کریں ۔

Tags: