شہر میں کچرا جلائے جانے سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ

November 10, 2015 5:39 pm0 commentsViews: 43

کراچی کے 6 ضلعی بلدیاتی اداروں کی جانب سے کچرا اٹھانے کا کام رک گیا‘ صفائی ستھرائی کا نظام درہم برہم
سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز نہ ملنے کے باعث کچرااٹھانے کا کام نہیں کیا جارہا‘ بلدیہ عظمیٰ کا مؤقف
کراچی(سٹی رپورٹر)  شہر قائدکے چھ اضلاع میں کچرا اٹھانے کے بجائے جلائے جانے لگا ہے  جس کے سبب شہریوں میں سانس کے امراض میں اضافہ ہوگیا ہے ۔  کراچی کے چھ ضلعی بلدیاتی اداروں کی جانب سے شہر بھر سے کچرا اٹھانے کا کام رک گیا ہے اور شہر بھر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں جس کی وجہ شہر میں ہیضہ ،الرجی ، دمہ ، سانس سمیت وائرل بیماریوں میں اضافہ ہو گیا ۔ شہر بھر میں صفائی ستھرائی کا نظام درہم برہم ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں کچرا نہ اٹھائے جانے کے باعث کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں ۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور چھ بلدیاتی اداروں نے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے فنڈز مہیا نہیں کئے جارہے ہیں جس کے باعث کچرا اٹھانے کام نہیں کیا جارہاہے  اور  شہر کے مختلف علاقوں  کیماڑی‘ جمشید روڈ ،گلشن اقبال، گلبرگ ،نیو کراچی ،نارتھ کراچی ،نارتھ ناظم آباد،اولڈسٹی ایریاز کے علاقے کھارادر ،میٹھا در ،لیاری ،کھڈہ مارکیٹ ،رامسوامی ،رنچھوڑلائن ، صدر لکی اسٹار ،صدر بوہری بازار ،لائنز ایریا ،ناظم آباد ،گارڈن ، سرجانی ٹائون ،اورنگی ٹائون ،کورنگی ،لانڈھی ،ملیر ،قائد آباد،محمود آباد ،لیاقت آباد ،گولیمار،گلستان جوہرسمیت بیشتر علاقوں سے کچرا اٹھایا ہی نہیں جا رہا ہے۔ لیاقت آباد کی اہم شاہراہوں پر کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کے سبب ٹریفک کی روانی میں خلل کے علاوہ بدبو اور تعفن پھیلا ہوا ہے جبکہ ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں بھی کچرا کنڈیاں بھری پڑی ہیں جس سے علاقہ مکین سخت اذیت میں اپنی زندگی گزارنیپر مجبور ہیں۔ذرائع کے مطابق کچرے کے ڈھیر لگ جانے کے باعث جو ڈمپنگ پوائنٹس تک تو نہیں پہنچایا جارہا ہے کچرا کنڈیوں میں موجود ہزاروں ٹن کچرا روزانہ کی بنیاد پر جلایا جانے لگا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ شہر میں15ہزار ٹن کچرا جمع ہوتا ہے ۔ماہرین نے کہا ہے کہ اس وقت پورا شہر پہلے ہی  ہیضہ ،نیگلیریا ، پولیو اور خسرے کی زد میںہے جبکہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث دمہ ، سانس اور جلدی امراض میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچرے میں خطرناک کیمیائی مادے ہیں جو نظام تنفس کو تباہ کر دیتے ہیں۔  فضائی آلودگی کے باعث ہم اپنے بچوں کو سانس کے ذریعے زہر دے رہے ہیں۔تاہم حکام بالا  کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگی ہے ۔

Tags: