پول مافیا بااثر ٹھیکیداروں کیخلاف کارروائی کیلئے تحقیقاتی اداروں سے رابطے

November 10, 2015 5:46 pm0 commentsViews: 25

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران اور مخصوص ٹھیکیداروں کے گٹھ جوڑ کے باعث لائسنس یافتہ کنٹریکٹرز ٹینڈرز میں حصہ لینے سے محروم
پکچر اور کلری نالے کی ازسر نو تعمیر کے منصوبے میں اہل کنٹریکٹر کے بجائے من پسند ٹھیکیداروں کو نوازا جارہا ہے‘عبدالرحمن
کراچی (سٹی رپورٹر)بااثر ٹھیکیداروں کی پکچر اور کلری نالے کے کروڑوں روپے کے ٹھیکے ہتیانے کے منصوبے  کے انکشاف پر سینئر ٹھیکیداروں نے پول کرانے والے بااثر ٹھیکیداروںکے خلاف قانونی کارروائی کے لیئے تحقیقاتی اداروں سے رابطہ کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران اور مخصوص ٹھیکیداروں میں قائم مبینہ گٹھ جوڑ کے باعث پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ہزاروں لائسنس یافتہ کنٹریکٹرز ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز میں حصہ لینے سے محروم ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں جس کے باعث دیگر ہزاروں کنٹریکٹرز میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے، اس حوالے سے کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ 50 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے پکچر اور کلری نالے کی از سر نو تعمیر کے منصوبے میں بھی من پسند کنٹریکٹرز کو نوازنے کیلئے ہزاروں کنٹریکٹرز کو محروم کرکے 26 کنٹریکٹرز کو پری کوالیفکیشن کرکے ٹینڈر میں حصہ لینے کا اہل بنادیا گیا ہے جبکہ مذکورہ کام پاکستان انجینئرنگ کونسل کا لائسنس رکھنے والے C-3 کیٹگری کا  ہے کنٹریکٹرز ان کاموں میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل لائسنس اور تجدید کی مد میں کنٹریکٹرز سے اربوں روپے وصول کرتی ہے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کنٹریکٹرز کو مختلف کیٹگریکیلئے اہل قرار دیا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف بلدیہ کراچی میں پاکستان انجینئرنگ کونسل سے لائسنس یافتہ کنٹریکٹرز کو ٹینڈرز میں شامل کرنے کے بجائے از خود پری کوالیفکیشن کرنے کا عمل شروع کردیا ہے جس کے باعث پاکستان انجینئرنگ کونسل کی موجودگی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے، کراچی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے پکچر کلری نالوں کی پری کوالیفکیشن کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے سیپرا، ڈائریکٹر جنرل قومی احتساب بیورو (نیب) وزیر بلدیات سندھ، ایڈمنسٹریٹر کراچی، کمشنر کراچی سمیت چیئرمین ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو خطوط ارسال کردیئے ہیں جس میں مذکورہ حکام اور تحقیقاتی اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Tags: