میڈیسن مارکیٹ چھاپے میں برآمد ادویات سرکاری اداروں سے چوری شدہ نکلیں

November 11, 2015 5:36 pm0 commentsViews: 192

50 لاکھ روپے مالیت کی ادویات پاکستان رینجرز‘ پی آئی اے‘ قومی ادارہ برائے امراض قلب اوردیگر اداروں سے چوری کی گئیں
چوری شدہ ادویات بروکروں‘ کمیشن ایجنٹوں اور سرکاری ملازمین سے براہ راست خریدتا تھا‘ گرفتار ملزم کا انکشاف
کراچی( نیوز ڈیسک) ایف آئی اے کے میڈیسن مارکیٹ پر چھاپے کے بعد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بر آمد شدہ50 لاکھ روپے کی ادویات ملک کے15 سرکاری اداروں سے چوری کرکے وہاں فروخت کی گئی تھی۔ دوران تفتیش گرفتار ملزم محمد جنید ولد محمد مبین نے انکشاف کیا کہ وہ چوری شدہ ادویات بروکروں، کمیشن ایجنٹوں اور براہ راست سرکاری ملازمین سے خریدا کرتا تھا خریداری کے بعد وہ دوائوںکے ڈبے تبدیل کر دیا کرتا تھا یا پھر ’’فروخت کیلئے نہیں‘‘ ( Not for Sale) کی اسٹیمپ مٹا دیاکرتا تھا۔ جن سرکاری اداروں کی ادویات بر آمد ہوئیں ان میں پاکستان رینجرز، پی آئی اے، کے پی ٹی اسپتال، قومی ادارہ برائے امراض قلب، عالمگیر ٹرسٹ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیسی، پاپولیشن ویلفیئر ٹرسٹ، پراونشنل ٹی بی کنٹرول، پاکستان ڈیفنس کورسز، پاپولیشن ویلفیئر ڈپارٹمنٹ سوشل سیکورٹی ڈپارٹمنٹ، بی ای ایس ایس آئی، حکومت بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی حکومت شامل ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایف آئی اے اور ڈرگ انسپکٹر کی مشترکہ ٹیم نے کچھی گلی نمبر2 میڈیسن مارکیٹ میں واقع میسرز بی کیمسٹ کی دکان نمبر14 پر چھاپہ مارا اور وہاں سے دوائیں بر آمد  کرتے ہوئے ملزم جنید کو گرفتار کیا تھا۔ دکان سے23 مختلف اقسام کی چوری شدہ ادویات بر آمد ہوئیں اور اس کے بعد ملزم کی نشاندہی پر اس  گلی میں واقع دو گوداموں پر بھی چھاپے مارے گئے اور وہاں سے تقریباً 40 مختلف اقسام کی دوائیں بر آمد ہوئیں۔

Tags: