پاکستان میں سالانہ92 ہزار بچے نمونیا کا شکار ہو جاتے ہیں

November 11, 2015 6:15 pm0 commentsViews: 55

دنیا بھر میں155 ملین بچے سالانہ نمونیا میں مبتلا ہوتے ہیں، علاج ممکن ہے، آج بچائو کا عالمی دن منایا جائے گا
کراچی( اسٹاف رپورٹر) ماہرین غذائیت نے کہا ہے کہ دنیا میں سالانہ155 ملین اور پاکستان میں92 ہزار بچے نمونیا کی بیماری سے متاثر ہورہے ہیں‘ اس بیماری کا علاج ممکن ہے‘12 نومبر کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تحت پاکسان سمیت دنیا بھر میں نمونیا سے بچائو اور آگاہی کا عالمی دن منایا جائیگا‘ ان خیالات کااظہار منگل کو کراچی پریس کلب میںپاکستان پیڈ یاٹرک ایسوسی ایشن سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد سلیم پاریانی‘ ڈائو یونیورسٹی کے شعبہ پیڈیاٹرکس کی چیئرپرسن ڈاکٹر عائشہ مہناز اور پروفیسر جلال اکبر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا‘ ڈاکٹر عائشہ منہاز نے کہا کہ نمونیا پھیپھڑوں کی بیماری ہے‘ اس میں مریض کے پھیپھڑوں پر ورم آجاتا ہے‘ سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے ور دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔ اس بیماری کے جراثیم کا خاتمہ ویکسین کے ذریعے ہی ممکن ہے کیوں کہ نمونیا کے بیکٹیریا کو اینٹی بائیکوٹک سے ختم نہیں کیا جاسکتا‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں40 فیصد بچے غذائی کمی کا شکار ہیں‘ بچہ کمزور ہو تو جلد بیماری کا شکار ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بچوں کی شرح اموات دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد والدین میں شعور بیدا رکرنا ہے‘ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو بروقت تمام حفاظتی ٹیلے لگوائیں اس میں غفلت اور لاپرواہی ہرگز نہیں کرنی چاہئے۔

Tags: