سیاسی اور عسکری قیادت میں فاصلے بڑھ گئے‘صورتحال سنگین ہوسکتی ہے‘ تجریہ کار

November 12, 2015 7:40 pm0 commentsViews: 26

آرمی چیف نے حکومت کو ایک بڑا اشارہ دیا ہے اسے سمجھا جائے‘ کوئی گڑبڑ ہوئی تو سویلین شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘ محمود خان اچکزئی
پاکستان میں سول اور عسکری قیادت میں بہتر تعلقات کا تصور تحلیل ہوتا نظر آرہا ہے‘ کور کمانڈر کانفرنس میں حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کااظہار اچھا شگون نہیں ہے
کور کمانڈر کانفرنس میں حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، حکومت نے بھی ایک غیر معمولی بیان جاری کر دیا، آئی ایس پی آر کا بیان آئین کی روح کے منافی ہے، محمود اچکزئی، حکومت کی نااہلی واضح ہو گئی، شفقت محمود
اسلام آباد( نیوز ایجنسیاں) پاکستان کی سیاسی فضاء ایک بار پھر خراب ہوتی نظر آرہی ہے محسوس ہوتا ہے کہ ملک کی سیاسی عسکری قیادت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں سیاسی تجزیہ کار صورتحال کو سنگین قرار دے رہے ہیں سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ پچھلے24 گھنٹے فوج اور سول قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے بہت اہم ہیں۔ حالیہ سالوں میں میں وہ تضاد دیکھنے میں نہیں آیا جو گزشتہ 24 گھنٹے میں دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں وہ لوگ جو کہا کرتے تھے کہ فوج اور سیاسی قیادت میں تعلقات کے حوالے سے سب اچھا ہے وہ تصور تحلیل ہوتا نظر آتا ہے۔ گو کہ یہ خوش کن پیشرفت نہیں ہے بہت ہی سنگین معاملہ ہے گزشتہ روز کور کمانڈر کانفرنس نے حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور گڈ گورننس ہ ہونے کا شکوہ کیا۔ پریس ریلیز کے پورے چوبیس گھنٹے بعد حکومت کے ترجمان نے ایک غیر معمولی بیان جاری کیا ہے۔ کور کمانڈرز کا جواب بھی عوامی سطح پر دیا گیا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کل کور کمانڈر نے اگر شکوہ کیا ہے تو حکومت نے جواب شکوہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام اداروں کو یاد دلایا ہے کہ آئین کی حدود میں رہ کر کردار ادا کریں۔ قومی اسمبلی میں بھی بدھ کو قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد میں سست روی سے متعلق کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ بھی زیر بحث آیا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ آرمی چیف نے حکومت کو ایک بہت بڑا اشارہ دیا ہے اسے سمجھا جائے وہ گورننس بہتر بنائیں۔ اور اپنی کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لیں۔ پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے آئی ایس پی آر کے بیان کو آئین کے خلاف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو وہ سویلین شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ایاز صادق کی صدارت میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی سمیت بعض جماعتوں کے ارکان نے آئی ایس پی آر کے اعلامیہ کو حکومت کے لئے پیغام قرار دیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کرے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ کور کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا ضرب عضب آپریشن کامیابی سے چل رہا ہے حکومت گورننس بہتر کرے۔ یہ حکومت کیلئے بہت بڑا اشارہ ہے۔ اسے سمجھا جائے۔ امید ہے وزیر اعظم اپنی کابینہ کو صحیح کریں گے اور اشارہ سمجھیں گے۔پارلیمنٹ کو مضبوط کیا جائے۔ پختون خوا عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پارلیمنٹ طاقتور ترین ادارہ ہے ہم عوام کے نمائندے ہیں۔ یہاں بھی داعش کا خطرہ ہے۔ اس طرف توجہ دی جائے، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ آئی ایس پی آر کا بیان آئین کی روح کے منافی ہے اس بیان کے بارے میں سپریم کورٹ سے تشریح کروائی جائے۔ دونوں شریف ایک پچ پر ہوں تو ساتھ دیں گے اور اگر ان میں گڑ بڑ ہوئی تو سویلین شریف کے ساتھ کھڑا ہونگا۔ ہم کسی خارجہ پالیسی کی حمایت نہیں کرینگے جو اس ایوان میں نہ بنے، تحریک انصاف کے شفقت محمود نے کہا کہ کور کمانڈرز کے بیان نے حکومت کی نا اہلی واضح کر دی ہے۔ فوج نے اپنا کام کر دیا۔ حکومت نے اپنا کام نہیں کیا۔ عدالتی نظام صحیح نہ کیا تو پکڑے گئے دہشت گرد رہا ہوجائیں گے، فوج نے اس طرف واضح اشارہ کیا ہے۔ شیریں مزاری نے کہا کہ آئی ایس پی آر کا عوامی سطح پر بیان آنا ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اور فوج میں سب ٹھیک نہیں ہے۔ بند کمرے کے اجلاس میں معاملات بہتر نہیں ہوئے اس لئے انہیں عوام میں آکر بیان دینا پڑا۔

Tags: