پولیس کی ملی بھگت ڈیفنس اور گلشن اقبال سمیت شہر میں شیشہ کیفے برقرار

November 16, 2015 5:24 pm0 commentsViews: 35

سپریم کورٹ کی جانب سے شیشہ کیفے کی بندش کے احکامات کی آڑ میں پولیس نے رشوت کے نرخ بڑھا دیئے
ریسٹورنٹس کے اندر ایک کمرہ شیشہ کیلئے مخصوص ہوتا ہے‘ پوش علاقوں میں گھروں پر پہنچانے کی سہولت بھی دستیاب
کراچی( نیوز ڈیسک) سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود پولیس کی ملی بھگت سے شہر بھر میں درجنوں شیشہ کیفے تاحال نوجوانوں میں موت بانٹ رہے ہیں۔ پوش علاقوں میں موجود کیفے مالکان بھاری بھتے کے عوض ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں شیشہ پلا رہے ہیں۔ متوسط علاقوں میں علاقہ پولیس کی بھتہ خوری کی وجہ سے متعدد شیشے کیفے تاحال رات گئے تک کھلے رہتے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پابندی کے احکامات کو جواز بناتے ہوئے پولیس نے بھتے کے نرخ کئی گنا بڑھا دئے ہیں دوسری جانب ایسٹ زون میں موجود درجن سے زائد شیشہ کیفے سڑک کے کنارے گرین بیلٹ میں اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر رات گئے تک نوجوانوں کو شیشہ فراہم کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود شہر بھر میں پولیس کی ملی بھگت سے درجنوں شیشہ کیفے نوجوانوں کی رگوں میں زہر گھولنے میں مصروف ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سائوتھ زون کے پوش علاقوں میں کلفٹن، ڈیفنس، گذری، بوٹ بیسن اور درخشاں کی حدود میں قائم درجنوں شیشہ کیفے کے مالکان پولیس حکام کو بھاری بھتے کی ادائیگی کے بعد شیشے کے شوقین نوجوانوں کو ایئر کنڈیشنڈ ماحول فراہم کر رہے ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے ساتھ دیگر ریسٹورنٹ کے اندر ایک کمرہ صرف شیشے کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اور اس میں جانے کی اجازت صرف با اعتماد گاہک کو ہی دی جاتی ہے۔ بصورت دیگر عام نوجوانوں کو اندر جانے کی اجازت دینا دور کی بات شیشہ کیفے کی موجودگی سے بھی انکار کر دیا جاتا ہے۔ ذرائع نے کہا کہ پوش علاقوں کے شیشہ کیفوں میں ایک شیشے کے ریٹ کئی ہزار روپے تک مقرر ہیں۔ اور گھروں پر سپلائی کی سہولت بھی با آسانی فراہم کی جاتی ہے۔ ذرائع نے مزید کہا کہ ایسٹ زون کے علاقوں میں گلستان جوہر سر فہرست ہے ان میں بھی درجنوں شیشہ کیفے تاحال قائم ہیں اور پولیس کو بھارت رشوت دے کر رات گئے تک کیفے کو کھلا رکھا جاتا ہے۔

Tags: