توہین عدالت،آئی جی سندھ سمیت5افسران کی معافی مسترد

November 18, 2015 5:08 pm0 commentsViews: 22

آج صبح سندھ ہائی کورٹ نے ذوالفقار مرزا کی دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سنادیا، پولیس افسران پر 25 دسمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی
سندھ ہائی کورٹ میں فیصلہ سننے کے بعد پولیس افسران کے چہرے اتر گئے، معافی نامہ مسترد ہونے پر پریشانی کا شکار
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) آج صبح سندھ ہائی کورٹ نے ذوالفقار مرزا کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کیس اور سندھ ہائی کورٹ کے باہر نقاب پوش پولیس اہلکاروں کے سیاسی کارکنوں اور میڈیا کے کیمرہ مینوں اور رپورٹروں پر تشدد کے معاملے پر فیصلہ سنادیا‘ عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ سمیت15 افسران کی جانب سے معافی نامے کو مسترد کردیا‘ جبکہ چیف سیکریٹری سے تمام الزامات کے بارے میں وضاحت طلب کی‘ اب آئی جی سندھ سمیت 15 افسران کیخلاف25 دسمبر کو فرد جرم عائد ہوگی‘ واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے عدالت میں پیشی کے موقع پر سندھ ہائی کورٹ کے باہر ان کے ورکروں اور میڈیا کے کیمرہ مینوں اور رپورٹروں پر نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے دھاوا بول دیا تھا اور تشدد کا نشانہ عنایا جس پر سندھ ہائی کورٹ نے سوموٹو ایکشن بھی لیا۔تاہم سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا کی جانب سے پولیس افسران اور اہلکاروں کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی جس پر سندھ کورٹ نے آج مختصر فیصلہ سنایا ہے‘ سندھ ہائی کورٹ میں معافی نامہ جمع کرنے والوں میں آئی جی سندھ‘ ایڈیشنل آئی جی سندھ‘ ڈی آئی جی اور دیگر پولیس افسران شامل تھے‘ نجی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی آئی جی سندھ سمیت دیگر پولیس افسران کے چہرے اتر گئے‘ اور خوف کا شکار تھے‘ ذرائع کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے مقدمے میں آئی جی سندھ سمیت دیگر پولیس افسران پر فرد جرم عائد ہوگی‘ تو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہوگا اور اس مقدمے میں آئی جی سندھ اور دیگر افسران نوکریوں سے برطرف ہوسکتے ہیں۔

Tags: