اقتصادی راہداری کی تکمیل کو خدشات بڑے مگرمچھوں کی گرفتاری روکنے کی حکومتی تجویز

November 18, 2015 5:53 pm0 commentsViews: 26

کرپشن میں ملوث ہر یہ سیاسی شخصیات پاک چین راہداری کی 2018 میں بروقت تکمیل میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں جو سندھ اور بلوچستان میں ہیں
پاک چین منصوبہ سیاسی منظر کو بھی یکسر تبدیل کردے گا، حکومت نے اس کی راہ میں میں آنے والی ہر رکاوٹ کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا، ذرائع
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) حکومت نے مقتدر اداروں کو تجویز دی ہے کہ کرپشن کے بڑے مگر مچھوں کیخلاف کارروائی کیلئے پاک چائنا کوریڈور کی تکمیل تک انتظار کرلیا جائے تاکہ ملک میں کوئی سیاسی انتشار نہ پھیلے‘ واضح رہے کہ کوریڈور منصوبہ2018 ء میں مکمل ہوجائیگا‘ ذرائع کے مطابق اب اس بات میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاک چائنا کوریڈور پاکستان کے سیاسی منظر کو یکسر تبدیل کردیگا اور بہت سی سیاسی جماعتیں اور پریشر گروپ فنا کی منزل کو چھونے والے راستے کے مسافر بنادیئے جائیں گے‘ اس ضمن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ سندھ اور بلوچستان ہوں گے جو کوریڈور کے آخری مگر سب سے اہم پوائنٹ کے حامل ہیں‘ یعنی کراچی اور گوادر‘ قومی سلامتی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے اہم ذرائع نے بتایا کہ اب اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ملک یا صوبوں پر کس کی حکومت ہوگی‘ چائنا کوریڈور کو ملکی سلامتی اور معاشی مستقبل کیلئے ریڑھ کی ہڈی قرار دے دیا گیا ہے‘ ۔ اس کی راہ میں جو کوئی آئیگا وہ ہٹادیا جائیگا‘ ذرائع کے بقول امریکہ اور برطانیہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہیں کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں چائنا کوریڈور سے لنک ہوگئیں تو پاکستان میں معاشی اور سیاسی انقلاب آجائیگا اور یہ ملک امریکہ کے کنٹرول سے باہر ہوجائیگا‘ ذرائع کے بقول اسی لئے امریکہ نے بلوچستان اور برطانیہ نے کراچی میں خونریزی کو ہوا دی اور خصوصاً مشرف اور زرداری کے دور میں یہ دونوں علاقے جنم بنادیئے گئے تھے۔

Tags: