الیکشن کمیشن نے ایک پارٹی سے ملکر دھاندلی شروع کردی وزیر اعلیٰ سندھ

November 19, 2015 3:05 pm0 commentsViews: 20

ایک روز قبل متعدد یونین کونسلوں کے انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں‘ قائم علی شاہ
فیصلہ پیپلز پارٹی کی اکثریت اقلیت میں تبدیل کرنیکی سازش ہے‘ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کرینگے‘ ہنگامی پریس کانفرنس
کراچی( اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے ایک روز قبل سندھ کی مختلف یونین کونسلوں، یونین کمیٹیوں اور ٹائون کمیٹیوں میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پرانی حلقہ بندیوں کے تحت دوسرے مرحلے کے انتخابات کرائے جائیں۔ یہ فیصلہ دھاندلی پر مبنی ہے اور ایک پارٹی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کیا گیا۔ فیصلے کے ذریعے پیپلز پارٹی کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی گئی ہے جس کو تبدیل نہیں کرنے دینگے اور نہ ہی انتخابات کا بائیکاٹ کرینگے اور قانون کے دائرے میں رہ کر اس فیصلے کے خلاف احتجاج کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی شب وزیر اعلیٰ ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر وزیر اطلاعات نثار احمد کھوڑو، وزیر اعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی اور صدیق ابو بھائی بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ الیکشن سے محض24 گھنٹے قبل آنے والے فیصلے نے سنگین قسم کا ابہام پیدا کر دیا ہے سندھ حکومت کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کل کن حلقوں میں الیکشن ہونگے اور نہ ہی اس حوالے سے امیدواروں کو بتایا گیا ہے۔ اس صورتحال میں سیکریٹری الیکشن کمیشن سے رابطہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کچھ دیر میں حلقوں کے بارے میں ورک آئوٹ کرکے تفصیلات فیکس کرینگے لیکن ابھی تک ان کی جانب سے کوئی فیکس موصول نہیں ہوا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیپلز پارٹی نے واضح اکثریت ثابت کرکے دکھائی ہے اور اس سے قبل بھی سندھ میں جتنے انتخابات ہوئے ہیں صوبے کے عوام نے ہمیشہ پیپلز پارٹی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اب پیپلز پارٹی کی متوقع فتح کو ناکامی میں تبدیل کرنے کی سازش کی گئی ہے۔ اس تمام دھاندلی والے عمل میں کچھ افراد اور ایک پارٹی کے لوگ ملوث ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جمعرات کو14 اضلاع کے کن حلقوں میں الیکشن ہونے ہیں اس کا صوبے کے انتظامی سربراہ تک کو علم نہیں ہے۔ حلقے ختم کرنے کا ایک قانونی طریقہ ہے مگر یہاں پر قانون کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ الیکشن کمیشن کی نا اہلی ہے۔ جن لوگوں نے فیصلہ دیا ہے انہیں قانون اور انصاف کو پیش نظر رکھنا چاہئے تھا گزشتہ40 سے50 سالوں میں اس قسم کی کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ بھیڑ بکریاں نابینا نہیں ہیں کہ انہیں بڑے بھونڈے انداز میں جہاں دل چاہے ہانک دیا جائے۔ دونوں جگہ جج صاحبان ہیں انہیں غور کرنا چاہئے انہوں نے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ وہ ہوش میں آئے اور انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر صحیح فیصلے کرے۔

انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ
انتہائی متنازع ہے، بلاول
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کی81 یونین کونسل میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ متنازع قرار دیدیا۔ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بلاول نے کہا کہ انتخابات سے ایک رات قبل سندھ کی کئی یونین کونسل میں بلدیاتی انتخاب ملتوی کرنے کا فیصلہ انتہائی متنازع ہے۔

پی پی نے سیاسی مفادات کیلئے حلقہ بندیاں کی تھیں، رابطہ کمیٹی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سابقہ حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے سندھ میں غیر قانونی حلقہ بندیاں کیں اور دیہی علاقوں کو شہری علاقوں میں شامل کرکے شہری علاقوں کے عوام کونمائندگی کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی۔ ایم کیو ایم نے ان غیر قانونی حلقہ بندیوں کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سندھ ہائی کورٹ نے ان حلقہ بندیوں کو کالعدم قرار دیدیا۔

 

Tags: