پنجاب کے شہروں میں پیرس طرز کے دہشتگرد حملوں کا خدشہ

November 19, 2015 3:42 pm0 commentsViews: 33

لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ سیل‘ مولانا عبدالعزیز کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی شروع
داعش کے حوالے سے مولانا عبدالعزیز کے بیانات کا نوٹس‘ پنجاب میں داعش فعال نظرآئی تو پنجاب حکومت ایکشن لے گی‘ رانا ثناء اللہ
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) محکمہ انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے خبر دار کیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں پیرس طرز کے حملوں کا خطرہ ہے دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر حساس مقامات اور سوشل میڈیا ویب سائٹس کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی۔ جنوبی پنجاب میں لال مسجد سے ملحقہ مدرسہ سیل، جبکہ مولانا عبدالعزیز کی نقل و حرکت کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق انسداد دہشت گردی، ڈپارٹمنٹ پنجاب کے مطابق داعش پنجاب بھر میں پیرس طرز کے حملے کر سکتی ہے۔ تاہم بلدیاتی انتخابات کے دوران ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ محکمہ نے صوبے میں دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر حساس مقامات اور سوشل میڈیا وی سائٹس کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق سیکورٹی کے پیش نظر جنوبی پنجاب میں طلباء کو مسلح تربیت دینے والا ایک مدرسہ بھی سیل کر دیا گیا ہے رپورٹ کے مطابق صوبائی سیکریٹری داخلہ میجر اعظم سلطان نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں سیل کیا گیا مدرسہ اسلام آباد کی لال مسجد سے الحاق شدہ تھا۔ جس کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے داعش سے بیعت کر رکھی ہے۔ انتظامیہ داعش کے حوالے سے مولانا عبدالعزیز کے بیانات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور کڑی نگرانی کی جا ری ہے کہ داعش کہیں صوبے میں قدم نہ رکھ دے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگر چہ لال مسجد پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں لیکن صوبائی حکومت اس حوالے سے وفاقی انتظامیہ سے تعاون کر رہی ہے اور مدرسے سے دہشت گردی کے فروغ کو روکنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اگر پنجاب میں شام و عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم داعش کسی بھی صورت میں فعال نظر آئی تو صوبائی حکومت اس کے خلاف سخت ایکشن لے گی اگر کسی مدرسے کے معلم یا کالج کے استاد پر بھی داعش کی معاونت کا شبہ ہوا تو انہیں بھی نہیں چھوڑا جائے گا۔

Tags: