الطاف خانانی نے منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے باہر بھجوائے

November 19, 2015 3:52 pm0 commentsViews: 26

پاکستان سے یو اے ای‘ برطانیہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں حوالہ ہنڈی کے ذریعے بھاری رقوم بھجوائی گئی
کالے دھن کے کام میں دبئی کی الزرغوانی کمپنی بھی ملوث رہی جس پر امریکی رپورٹ کے بعد پابندی لگادی گئی ہے
کراچی( کرائم ڈیسک) الطاف خانانی کے ساتھ منی لانڈرنگ کے کاروبار میں دبئی کی منی ایکسچینج کمپنی بھی ملوث تھی۔ ایف آئی اے کے مطابق دبئی میں خانانی منی چینجرز نے عالمی سطح پر بلیک منی کو وائٹ کرنے کا کام شروع کیا۔ ملزم دنیا بھر کے دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کو بھی خدمات دیتا رہا۔ کالے دھن کے کام میں دبئی کی الزر غوانی ایکسچینج کمپنی بھی الطاف خانانی کے ساتھ ملوث رہی بعد میں امریکی اداروں کی رپورٹس پر یو اے ای حکومت نے الزر غوانی ایکسچینج پر پابندی لگا دی، ایف آئی اے کے مطابق الطاف خانانی کمپنی پاکستان سے یو اے ای، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں حوالہ ہنڈی پر مبنی کاروبار میں بھی ملوث ہے۔ الطاف خانانی پاکستان میں مختلف منی چینجرز سے رابطہ میں رہا اور پاکستان سے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کئے۔ ان رابطوں کے انکشاف پر ایف آئی اے نے منی چینجرز کے گرد گھیرا تنگ کرکے انہیں پکڑنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ پاکستان میں مارس ٹریڈرز نے منی لانڈرنگ کا مرکزی کردار ادا کیا۔ مارس ٹریڈرز کے تین ڈائریکٹرز کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ جن سے ایک ارب روپے سے زائد کے ثبوت بھی ملے ہیں۔ مارس ٹریڈرز کی مین لانڈرنگ میں چائنا کٹنگ کا مرکزی کردار احسن عرف چنوں ماموں بھی شامل رہا جبکہ جعلی ڈگری اسکینڈل میں ملوث ایگزیکٹ گروپ نے بھی منی لانڈرنگ کیلئے مارس ٹریڈرز کا سہارا لیا۔ ایف آئی اے نے مارس ٹریڈرز کے چار مفرور ڈائریکٹرز کی گرفتاری کیلئے بھی انٹر پول سے رابطہ کر لیا ہے۔ محمد حنیف، نور اللہ، جاوید اور نوشاد نامی ڈائریکٹرز الطاف خانانی سے رابطے میں رہے اور انہوں نے پاکستان میں دبئی سے منی لانڈرنگ کا مضبوط نیٹ ورک بنانے میں الطاف خانانی کی مدد کی ہے۔

Tags: