کینٹ اسٹیشن پر تین بوگیوں میں پراسرار آتشزدگی

November 19, 2015 4:16 pm0 commentsViews: 23

تینوں بوگیاں خالی تھیں اس لیے کوئی نقصان نہیں ہوا، واقعہ کو غفلت کا نتیجہ قرار دے دیا گیا
اسٹیشن پرسیکورٹی نہ ہونے سے نشہ کرنے والے افراد بوگیوں میں بیٹھ کر نشہ کرتے ہیں، آتشزدگی اسی کا نتیجہ ہے
کراچی(کرائم رپورٹر)کینٹ اسٹیشن میں پراسرار طورپر تین بوگیوں میںآگ لگ گئی جو مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی ،ریلوے ڈیپارٹمنٹ نے آتشزدگی کے و اقعہ پولیس کی غفلت و لاپرواہی قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز کینٹ اسٹیشن کی ریلوے لائن پرعملے نے خودساختہ طورپر لاوارث قرار دیئے جانے والی تینوں بوگیوں میںوقفے وقفے سے آگ لگ گئی ،پاکستان ایکسپریس ٹرین کی پہلی بوگی نمبر8511.6 میں صبح 9بجکر 15منٹ پر آگ لگی جسے فائر بریگیڈ کی دوگاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر ایک گھنٹے میں آگ پر قابو پایا ،اسکے بعد چند فاصلے پر کھڑی پاکستان ایکسپریس کی دوبوگیوں نمبر (9015.2اور8466.5) میں دوپہرایک بجکر 22منٹ پر پراسرار طورپراچانک آگ بھڑک اٹھی ،عملے نے فوری طور پر فائربریگیڈ کو اطلاع دی ،فائربریگیڈکی دوگاڑیوں نے موقع پر پہنچ کرڈیڑھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا ،صدر فائر اسٹیشن کے عملے کا کہنا ہے کہ تینوں بوگیاں خالی تھی اس میںکوئی سامان نہیں تھا ،انہوں نے بتایاکہ ریلوے ڈیپارٹمنٹ کے چند افراد کا کہنا تھا کہ یہ بوگیاں ڈیمیج ہوچکی تھیںجب ہی انہیں واشنگ لائن کی پٹری پر کھڑا کیا گیا تھا ، چند افسران کا کہنا تھا ڈیمیج نہیںتھی یہ بوگیاں پاکستان ایکسپریس کی تھی جن میں تھوڑی خرابی ہوگئی تھی انہیں ٹھیک کرواکر کھڑا گیا تھا ،ورکشاب کے عملے نے لاوارث چھوڑ دی ،ریلوے کے افسران کینٹ ریلوے پولیس پر برس پڑے ،افسران کا کہنا تھا کہ کینٹ اسٹیشن نشہ کرنے والے افراد کے ٹھکانہ بن گیا ہے ،پولیس کی جانب سے کینٹ اسٹیشن پر پر کوئی سیکورٹی کے انتظامات نہیں ہیں جس کی وجہ سے نشہ کرنے والے افراد بوگیوں میں بیٹھ کر نشہ کر تے ہیں ،عملے کو شبہ ہے کہ نشہ کرنے والے افراد نشہ کرنے کے بعد کوئی چیز جلی ہوئے چھوڑ گئے۔

Tags: