بلدیہ عظمیٰ کے اربوں روپے کے پلاٹوں کی نیلامی پر تحفظات سامنے آگئے

November 19, 2015 4:16 pm0 commentsViews: 24

سماجی و سیاسی حلقوں کی جانب سے شدیداعتراضات کئے جارہے ہیں سیاسی حلقوں نے بھی پلاٹوں کی نیلامی کو بوگس قرار دے دیا
نیلامی کے ذریعے زمینوں کی بندر بانٹ کی اطلاعات پر تحقیقاتی ادارے بھی حرکت میں آگئے‘ خفیہ تحقیقات شروع کردی گئی
کراچی (سٹی رپورٹر) بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے اربوں روپے کے پلاٹوںکی نیلامی پر سیاسی و سماجی حلقوں کا شدید تحفظات کا اظہار،شہر کے سیاسی حلقوں نے نیلامی کو بوگس قرار دے دیا،سیاستدانوںنے بلدیاتی انتخابات کے بعد نیلام کیئے گئے تمام پلاٹ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا بلدیہ عظمیٰ کرا چی کے افسران کے ایک گروپ نے بلدیاتی انتخابات سے قبل کراچی کی 10 ارب روپے سے زائد کی قیمتی اراضی نیلام کرنے کی تیاریاںمکمل کرلی ہیں۔ بلدیہ کراچی محکمہ لینڈ، محکمہ ریونیو اور محکمہ قانون کے سینئر افسران نے قیمتی پلاٹوں کی اس طرح نیلامی پر حیرت کا اظہار کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ پلاٹوں کی نیلامی میں مبینہ بندر بانٹ پر تحقیقاتی ادارے حرکت میں آگئے ہیں، بلدیہ کراچی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے مذکورہ پلاٹس نیلامی کے ذریعے ٹھکانے لگائے جارہے ہیں جس کیلئے بلدیاتی حکام کو اعلیٰ حکام کی جانب سے دبائو ڈالا جارہا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل قیمتی پلاٹوں کو نیلام کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ چند روز بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے اس کے بعد منتخب چیئرمین عہدہ سنبھالے گا اور ادارہ کیسے چلایا جانا ہے یہ فیصلہ منتخب کونسل اور چیئرمین کی صوابدید پر ہوگا، ان حلقوں کا کہنا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا ادارہ ہے نہ کہ ریونیو جمع کرنے کا ادارہ ہے، لیکن ایک مبینہ سازش کے تحت کراچی کی ترقی کو روکنے کیلئے پہلے آکٹرائیٹیکس ختم کیا گیا بعد ازاں ریونیو جمع کرنے والے محکموں جس میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور محکمہ ماسٹر پلان کو سندھ حکومت کا حصہ بنادیا گیا اور اس کے ساتھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بناکر بلدیہ کراچی کو ہر طرح کے اختیارات سے محروم کیا جارہا ہے، اور اب با اثر شخصیات کی ہدایت پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے قیمتی اثاثوں کو نیلام کیا جارہا ہے۔

Tags: