شہر میں انتخابی ریلیوں میں جھگڑے

November 23, 2015 2:15 pm0 commentsViews: 13

حساس اداروں نے بلدیاتی الیکشن کی سرگرمیوں میں سیاسی گروپوں کے درمیان مسلح تصادم اور خونریزی کے خدشات کااظہار کردیا
لانڈھی میں جماعت اسلامی کی ریلی پر حملہ، ہمارے متعدد کارکنوں کو اغواء کرلیا گیا، حافظ نعیم الرحمن، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کراچی کے حالات خراب کرکے بلدیاتی الیکشن رکوانا چاہتی ہیں، فاروق ستار
کورنگی، لانڈھی، لیاری اور شہر کے دیگر علاقوں میں سیاسی جماعتوں اور آزادامیدواروں کی ریلیاں، کارکن آمنے سامنے آگئے، ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی، ہاتھاپائی کے واقعات بھی پیش آئے
کراچی( کرائم ڈیسک) کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ جیسے جیسے قریب آرہی ہے انتخابی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور ساتھ ہی سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے حساس اداروں نے سیاسی گروپوں کے درمیان مسلح تصادم اور خونریزی کے خدشات کا اظہار کیا ہے تفصیلات کے مطابق بلدیاتی الیکشن کے تیسرے مرحلے کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ساتھ کراچی میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے اپنا اثر و رسوخ اور اکثریت دکھانے کیلئے بھر پور کوششیں شروع کر دیں ہیں۔ جس کے تحت اتوار کے روز کورنگی، لانڈھی، لیاری اور شہر کے مختلف علاقوں میں سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی جانب سے ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ ریلیوں کے دوران مخالف جماعتوں کے کارکنان آمنے سامنے آگئے۔ اس دوران ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور ہاتھا پائی میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ تاہم رینجرز نے مختلف علاقوں میں بے قابو کارکنان پر قابو پالیا۔ اور انہیں منتشر کر دیا ، رینجرز نے حساس علاقوں میں گشت بھی بڑھا دیا ہے گزشتہ روز جماعت اسلامی کی ریلی پر بھی حملہ کیا گیا جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم کے مطابق ہمارے کورنگی کے متعدد کارکنان کو اغواء کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈی جی رینجرز سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کراچی کے حالات خراب کرکے بلدیاتی الیکشن رکوانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ڈی جی رینجرز سے حفاظتی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں کراچی میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے سیاسی، مذہبی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کے پوسٹرز، بینرز بھی شہر بھر میں آویزاں کر دئیے گئے ہیں۔ کاروں، موٹر سائیکلوں پر مختلف پارٹی کے پرچم لگائے نوجوان شہر بھر میں نکل آئے ہیں جگہ جگہ جھنڈے لگائے جا رہے ہیں۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان ایک دوسرے کو دیکھتے ہی نعرے بازی شروع کر دیتے ہیں اور شہر کے کئی علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اور مسلح تصادم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

Tags: