شاہد خاقان کیخلاف200 ارب روپے کی کرپشن کے ثبوت نیب کے حوالے

November 23, 2015 3:15 pm0 commentsViews: 45

ایل این جی ٹرمینل کی تنصیب اور فروخت میں بد عنوانیاں کی گئیں، سابق افسران وعدہ معاف گواہ بن گئے
سابق سیکریٹری پیٹرولیم اور سابق ایم ڈی سوئی ناردرن نے ناقابل تردید ثبوت فراہم کر دیئے
اسلام آباد( آن لائن) ایل این جی ٹرمینل کی تنصیب اور فروخت اسکینڈل میں وفاقی وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے خلاف200 ارب کی مبینہ کرپشن پر سابق افسران وزارت پیٹرولیم وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں اور وفاقی وزیر کی مبینہ کرپشن کے نا قابل تردید ثبوت بھی نیب کو بھجوا دئیے گئے ہیں۔ نیب ذرائع کے مطابق ایل این جی اسکینڈل میں200 ارب روپے سے زائد کرپشن کے شواہد ملے ہیں، جس میں اہم کردار شاہد خاقان عباسی کا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ نا قابل تردید ثبوت سابق سیکریٹری عابد سعید اور سابق ایم ڈی سوئی ناردرن عارف حمید اور سوئی سدرن کے سابق ایم ڈی ایم وارثی نے فراہم کئے ہیں۔ وزارت پیٹرولیم کے ان افسران کو نواز شریف حکومت پہلے ہی فارغ کر چکی ہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وزارت پیٹرولیم نے قطر سے ایل این جی کے9 جہاز در آمد کئے تھے اور سستی قیمت پر یہ گیس من پسند پاور کمپنیوں کو فروخت کر دی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ نیب ایل این جی کرپشن اسکینڈل میں وفاقی سیکریٹری پیٹرولیم ارشد مرزا کو طلب کر چکا ہے اور ان کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ اور اب تحقیقات کیلئے شاہد خاقان عباسی کو بھی جلد طلب کیا جائے گا۔ دریں اثناء نیب نے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پائو کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے نتیجہ میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے بارے میں انکوائری مکمل کر لی ہے۔ یہ انکوائری مشرف دور میں شروع ہوئی تھی تاہم آفتاب شیر پائو کی طرف سے مشرف کی سیاسی حمایت کرنے پر کرپشن انکوائری کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا۔

Tags: