ذیابیطس ہر آٹھ سیکنڈ میں ایک زندگی نگلنے لگا

November 23, 2015 3:24 pm0 commentsViews: 34

مرض بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد38 کروڑ سے تجاوز کر گئی، موت کی چوتھی بڑی وجہ قرار
یہ انسان میں دل کے امراض، خون کی نالیوں، گردوں، آنکھوں اور اعصاب سمیت دیگر اعضاء کو متاثر کرتی ہے طبی ماہرین
کراچی( اسٹاف رپورٹر) دنیا میں ہر آٹھویں سیکنڈ میں ایک شخص ذیا بیطس کا شکار ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ذیا بیطس اس وقت بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اور دن بدن مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات پروفیسر سید مسرور احمد، ہیڈ آف میڈیکل یونٹ 3 وارڈ نمبر7 نے تیسرا سالانہ سیمپوزم کے زیر اہتمام ذیا بیطس کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر پروفیسر زمان شیخ، پروفیسر ایس ایم منیر، پروفیسر نجم السلام، پروفیسر سعید مہر، پروفیسر قیصر جمال، ڈاکٹر سلیم شہزاد، پروفیسر علیشاہ، مریم چیمہ، ڈاکٹر سعید منہاس، ڈاکٹر اصغر علی، ڈاکٹر صوبیہ، ڈاکٹر عطیہ، ڈاکٹر ذیشان علی، ڈاکٹر شبنم نوید، ڈاکٹر عروج لال رحمن، محمد فہد و دیگر بھی موجود تھے، پروفیسر سید مسرور احمد نے مزید کہا کہ اس وقت عالمی سطح پر 38 کروڑ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ موت کی چوتھی بڑی وجہ ذیا بیطس ہے پاکستان میں ذیا بیطس کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس وقت ملک بھر میں71 لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں جن میں عملی اقدامات نہیں کئے گئے تو مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2030 تک ایک ارب 14کروڑ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، ذیا بیطس کے متاثرین کو اس مرض کی پیچیدگیوں کا خطرہ لاحق رہتا ہے اور یہ پیچیدگیاں دل کے امراض، خون کی نالیوں، گردوں، آنکھوں اور اعصاب سمیت دیگر اعضاء کو متاثر کر تی ہیں۔ پروفیسر زمان شیخ نے کہا کہ ذیا بیطس ٹاپ ون کے مریضوں کی زندگی بچانے کیلئے انسولین ضروری ہے دیگر صورت میں اموات بھی ہو سکتی ہیں۔

Tags: