ملی بھگت کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کا انکشاف

November 25, 2015 4:37 pm0 commentsViews: 40

بلدیہ عظمیٰ میں ملازمین کی برطرفی اور گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں بند کرنے کے باوجود ادائیگیوں میں واضح فرق نہ آسکا
میٹروپولیٹن کمشنر نے مبینہ بدعنوانیوں کے باعث محکمہ پے رول سے ریکارڈ طلب کرلیا، ڈائریکٹر پے رول کو ریکوری اجلاس میں شریک ہونے کا حکم
کراچی (سٹی رپورٹر) کے ایم سی محکمہ پے رول کے افسران کی ملی بھگت سے گھوسٹ ملازمین کوتنخواہوںکی ادائیگی کاانکشاف،محکمے کے ایک اعلیٰ افسر کی مبینہ سر پرستی میں طویل عرصے سے گھوسٹ ملازمین کی تنخواہوں کے بل پرنٹ کئے جارہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی میں گھوسٹ اور مبینہ جعلی بھرتیوں کے نام پر ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں بند ہیں جبکہ متعدد کو نوکریوں سے برطرف بھی کیا جاچکا ہے، تاہم اس کے باوجود بلدیہ عظمیٰ کراچی کو ماہانہ تنخواہوں کی ادائیگی میں کوئی خاطر خواہ فرق نہ آنے پر اعلیٰ حکام میں شدید تشویش پھیل گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بلدیہ کراچی کے میٹروپولیٹن کمشنر سمیع صدیقی نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے محکمہ پے رول سے ملازمین کی تنخواہوں کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ہزاروں ملازمین کی برطرفی اور تنخواہیں بند ہونے کے باوجود بجٹ میں کوئی واضح فرق کیوں نہیں آسکا، ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز سوک سینٹر میں منعقدہ ریکوری اجلاس میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، بلدیہ کراچی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گھوسٹ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں محکمہ پے رول کے افسران مبینہ طور پر ملوث ہیں، جبکہ ذرائع نے مزید انکشاف کیا ہے کہ محکمہ تعلیم کے متعدد حاضر ملازمین کو گھوسٹ ظاہر کرکے ان کی تنخواہیں بند کرائی گئی ہیں جبکہ گھوسٹ ملازمین تاحال تنخواہیں وصول کررہے ہیں، محکمہ تعلیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ عمل محکمہ پے رول کی مبینہ ملی بھگت سے کیا جارہا ہے ۔ ملازمین نے حکومت سندھ سے محکمہ پے رول کے افسران کی مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کے افسران نے ایف آئی اے سمیت تحقیقاتی اداروں سے محکمہ پے رول کے معاملات کی تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے۔

Tags: