کراچی میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی راہیں جدا؟

November 30, 2015 1:05 pm0 commentsViews: 49

وفاقی حکومت نے کراچی میںپیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سے اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں شروع کردیں، اسحق ڈار کو ٹاسک دیدیا گیا
کراچی میں دونوں جماعتیں اپنی علیحدہ علیحدہ انتخابی مہم چلارہی ہیں، اتحاد غیراعلانیہ طور پر ختم ہوچکا ہے، اتوار کو عمران خان اور سراج الحق اپنی کامیابی کے لیے الگ الگ انتخابی مہم چلانے میں مصروف نظر آئے
عمران خان کراچی سے جاتے ہوئے کارکنوں کو ناراض کرکے چلے گئے، پی ٹی آئی کو کراچی میں سیاسی نقصان پہنچنے کا اندیشہ، مجمعے جمع کرنے کے بجائے پارٹی اختلافات ختم کرنے پر توجہ دی جائے، عمران کو مشورہ
کراچی(نمائندہ خصوصی/مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں بلدیاتی انتخابات سے قبل ہی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی راہیں ایک دن بعد جدا ہوگئیں، تبدیلی ریلی کا پیکیج حیرت انگیز طور پر ختم ہوگیا۔ اتوار کو تحریک انصاف تنہا الیکشن مہم چلاتی رہی، جماعت اسلامی اپنی انتخابی مہم میں مصروف رہی، کراچی میں تبدیلی کا عزم لے کر آنے والی تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کا اتحاد غیر اعلانیہ طور پر ختم ہوگیا۔ جس کے بعد دونوں جماعتیں الگ الگ کراچی میں انتخابی مہم میں مصروف رہیں۔ ہفتے کے روز جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور تحریک انصاف کے کپتان عمران خان نے کراچی میں ڈیرے ڈالے تھے، دونوں رہنمائوں کا کراچی میں یہ پڑائو بہت دیر تک قائم نہ رہ سکا۔ جیسے ایک میان میں 2 تلواریں نہیں رہ سکتیں یہ اتحاد بھی اس ہی طرح تادیر قائم نہیں رہتا نہیں دکھائی دیتا۔ ہفتے کو دونوں رہنمائوں نے آدھے راستے میں راہیں جدا کرلی تھیں۔ سراج الحق منزل پر پہنچ گئے تھے، جبکہ عمران خان راستے میں چھوڑ گئے تھے، سیاسی حلقوں کا کہنا ہے ہ جس طرح اتوار کو دونوں جماعتوں نے الگ الگ انتخابی مہم چلائی ہے اس سے یہ اندازہ ہورہا ہے کہ اس کا فائدہ دیگر سیاسی جماعتوں کو ہوگا۔ دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دورہ کراچی میں سندھ کے سینئر رہنمائوں کو نظرانداز کیا جس پر مقامی رہنمائوں نے عمران سے کراچی سے واپسی پر شکوہ کیا جبکہ جاتے جاتے عمران خان پی ٹی آئی کے کارکنان کو بھی ناراض کرگئے۔ اسلام آباد واپسی سے قبل عمران خان نے دائو چورنگی پر کارکنان سے خطاب کرنا تھا جس کے لیے دو روز سے تیاریاں کی جارہی تھیں اور شیڈول کے مطابق پارٹی چیئرمین نے وہاں پہنچنا تھا لیکن روایت کو برقرار رکھتے ہوئے گزشتہ روز کی طرح اچانک کپتان نے اپنا روٹ تبدیل کرلیا ور دائو چورنگی کے بجائے ایئرپورٹ روانہ ہوگئے۔ سیاسی حلقوں نے عمران خان کو مشورہ کیا ہے کہ وہ بلدیاتی الیکشن سے قبل جذباتی تقاریر اور عوام مجمہ اکھٹا کرنے سے زیادہ اپنی پارٹی کے اختلافات کو ختم کرنے پر توجہ دیں ورنہ پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر کراچی میں نقصان پہنچے گا۔علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات بہتر بنانے کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے وفاقی داخلہ چوہدری نثار کو ٹاسک دے دیا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے رابطہ کریں اور کراچی آپریشن کے حوالے سے ان دونوں جماعتوں کے تحفظات دور کریں۔ اس ٹاسک کے سبب وفاقی وزیرداخلہ کا اہم بیان سامنے آیا ہے جس میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سے باضابطہ رابطے سے قبل وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار دونوں پارٹی کی قیادت سے پردہ رابطے کرکے گرم سیاسی ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے۔

Tags: