اختیارات میں توسیع کی، مشروط اجازت؟ رینجرز کے اختیارات کراچی تک محدود

December 9, 2015 2:58 am0 commentsViews: 25

نیب کی پکڑ دھکڑ سے سندھ حکومت کی گورننس اور ساکھ متاثر ہوئی ہے،جوملزم گرفتار ہوئے کسی ایک کو بھی سزا نہیں ہوسکی، وزیراعلیٰ سندھ
وفاقی اور عسکری قیادت کی تشویش کے بعد سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، اختیارات اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی سے متعلق ہوں گے
کرپشن کے خلاف رینجرز کارروائی نہیں کرسکے گی، ایف آئی اے کے اختیارات کو بھی محدود کیاجائے گا،رینجرز کو انٹیلی جنس بنیادوں پر اندرون سندھ سے گرفتاریاں کرنے کی اجازت ہوگی، قائم علی شاہ نے اختیارات سے متعلق وزیراعظم کو آگاہ کردیا
کراچی( کرائم ڈیسک) سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات کراچی تک محدود کرتے ہوئے اختیار میں توسیع کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا، آصف زرداری سے مشاورت کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ آئندہ چوبیس گھنٹے میں سندھ میں رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی سمری پر دستخط کر دینگے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور عسکری قیادت کی تشویش کے بعد حکومت سندھ نے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے متعلق ہوں گے۔ اختیارات کراچی تک محدود ہوں گے، تاہم رینجرز کو انٹیلی جنس بنیادوں پر اندرون سندھ سے بھی گرفتاریاں کرنے کی اجازت ہوگی۔ ہر اہم کیس کی پراسیکیوشن کا اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا، وزیر اعظم بھی ہر ماہ کم از کم ایک بار خود کراچی پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ اس ضمن میں با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر ہائوس میں وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدات منعقدہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے ایک بار پھر ایف آئی اے اور نیب کی صوبے میں کارروائیوں کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے کو صوبائی محکموں میں کارروائی کا از خود اختیار نہیں ہے۔ ایف آئی اے حکام کے ایم سی سے جو تقریباً15 ہزار فائلیں لے گئے تھے۔ ان کے متعلق مشیر نامہ بھی نہیں بنایا۔ ان میں کے ڈی اے کی زمینوں کے متعلق عوامی نوعیت کی اہم فائلیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خلاف اینٹی کرپشن سندھ سر گرم ہے۔ ایف آئی اے کو اس سے روکا جائے جس پر وفاقی وزیر چوہدری نثار نے معاملہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں نیب کی کارروائیوں کے متعلق موقف اختیار کیا اب تک جو بھی گرفتاریاں ہوئیں ہیں اس سے کسی ایک ملزم کو بھی سزا نہیں ہوئی۔ نیب اب تک کوئی کیس ثابت نہیں کر سکا، لیکن نیب کی پکڑ دھکڑ سے حکومت سندھ کی سیاسی ساکھ اور گورننس کے امور متاثر ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف نے وزیر اعلیٰ سندھ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جائیں گی اس سے قبل اجلاس میں حکومت اور عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ کراچی میں جاری ٹارگیٹڈ آپریشن کو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا اور اس کی راہ میں حائل کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔ کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن میں سندھ رینجرز بدستور خدمات انجام دیتی رہے گی اور آپریشنل اختیارات کے تحت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھے گی۔ وزیراعظم نے سکیورٹی اداروں کو حکم دیا ہے کہ جے آئی ٹیز میں جن ملزمان نے دہشت گردوں کی نشاندہی کی ہے اور جو عناصر امن و امان کی صورت حال خراب کرنے سمیت دہشت گرد تنظیموںکے معاون ،سہولت کار اور مالی مدد گار ہیں ان عناصر اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے اور اس حوالے سے کوئی دباؤ یا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ پراسیکیوشن نظام میں اصلاحات وقت کا تقاضہ ہے ۔صوبائی اپیکس کمیٹی نے پراسیکیوشن کے حوالے سے جو تجاویز اور فیصلے کیے ہیں ان پر عملدرآمد میں تیزی لائی جائے ۔گرفتار دہشت گردوں کے خلاف درج مقدمات کے چالان قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد فوری عدالتوں میں پیش کیے جائیں تاکہ عدالتیں ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق فیصلہ دے سکیں ۔تفتیش اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں کوتاہی برتنے والے افسران کو ان کے عہدوں سے فارغ کردیا جائے ۔وفاقی حکومت ،سندھ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو ہر ممکن وسائل اور معاونت فراہم کرے گی ۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق ،عسکری قیادت ،سکیورٹی ادارے اور صوبائی حکومتیں متحد ہیں ۔یہ تمام فیصلے پیر کو گورنرہاؤس میں امن و امان کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان،وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ،آرمی چیف جنرل راحیل شریف،وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ،کور کمانڈ کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار ،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوا ن اختر ،ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر ،چیف سیکرٹری سندھ محمد صدیق میمن ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد وسیم ، آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی،انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن پر تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ رینجرز کی کارروائیوں سے شہر میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں بلاتفریق آپریشن جاری ہے ۔آئی جی سندھ نے اجلاس کو آپریشن میں گرفتاریوں ،تفتیش اور دیگر معاملات سے آگاہ کیا ۔وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں واضح کیا کہ حکومت سندھ دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کو وسائل کی ضرورت ہے ۔وفاقی حکومت امن و امان کے لیے فنڈز کا اجراء فوری کرے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وفاقی وزیرداخلہ نے حکومت سندھ کی جانب سے رینجرز کو خصوصی اختیارات نہ دینے کا معاملہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ رینجرز کے خصوصی اختیارات میں توسیع کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں رینجرز اور پولیس نے بحالی امن میں بہت قربانیاں دی ہیں جسے پوری قوم نے سراہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کو عوام کی تائید حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کی کامیابی کے لیے وفاقی ادارے، صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں سے ہرممکن تعاون کریں گے ۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت کراچی میں امن و امان کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کررہی ہے۔

Tags: