جھگڑا کسی اور کا پھنسایا مجھے جارہا ہے، ڈاکٹر عاصم، جسمانی ریمانڈ میں توسیع

December 9, 2015 3:02 am0 commentsViews: 24

پولیس حراست میں جان کو خطرہ ہے، میرے اسپتال میں دہشت گردوں کا علاج کئے جانے کے الزامات غلط ہیں
ڈاکٹر عاصم سے نامعلوم افراد کی ملاقات کرائی جاتی ہے، وکیل کا انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بیان
کراچی( اسٹاف رپورٹر) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دہشت گردی ایکٹ کے مقدمے میں گرفتار ڈاکٹر عاصم حسین کے جسمانی ریمانڈ میں5 دن کی توسیع کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے پروگریس رپورٹ طلب کی ہے۔ پیشی کے موقع پر پہلی بار ڈاکٹر عاصم حسین نے لب کھولتے ہوئے کہا کہ پولیس کی حراست میں جان کو خطرہ ہے جھگڑا کسی اور کا ہے مجھے پھنسایا جا رہا ہے۔ ا س سے قبل2 مرتبہ ریمانڈ کے موقع پر عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین کو صفائی میں بولنے کی اجازت دی تھی تو اس موقع پر ڈاکٹر عاصم حسین خاموش رہے تھے اور کچھ بولنے سے انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل 2 اہم صوبائی وزراء نے ڈاکٹر عاصم حسین سے ملاقات کی اور حکومتی تھپکی ملنے کے بعد ڈاکٹر عاصم نے عدالت میں اچانک پینترا بدلتے ہوئے سیکورٹی اداروں کے خلاف الزامات لگائے۔ پیر کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے منتظم جج و جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی عدالت میں ڈاکٹر عاصم حسین کو سخت سیکورٹی انتظامات میںپیشی کیلئے لایا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر عاصم حسین کے اہلخانہ وکیل عامر رضا نقوی، ڈی جی نیب، اسپیشل پراسیکیوٹر مشتاق جہانگیری اور مقدمے کے نئے تفتیشی آفیسر ڈی ایس پی الطاف حسین بھی موجود تھے۔ مقدمے کے تفتیشی آفیسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے عدالت کو بتایا کہ ان کو4 دسمبر کو کیس کی تفتیش منتقل کی گئی افسر کی تفتیش کی بھی جانچ کرنی ہے۔ ملزم کے ریمانڈ میں 5 دن کی توسیع کی جائے۔ جس پر ڈاکٹر عاصم حسین کے وکیل عامر رضا نقوی نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم پہلے ہی سو دن سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں تھے۔ اب نیب بھی ریمانڈ لے رہا ہے۔ لہٰذا ڈاکٹر عاصم حسین کو نیب کے حوالے نہ کیاجائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل سے نا معلوم افراد کی ملاقات کرائی جاتی ہے۔ جس کے بعد وکیل نے ڈاکٹر عاصم کی بیٹی ندا کی جانب سے بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کرایا جس میں کہا گیا ہے کہ ان کے والد کی جان کو خطرہ ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر عاصم حسین سے استفسار کیا کہ ان کو پولیس نے حراست کے دوران تشدد کا نشانہ تو نہیں بنایا، جس پر ڈاکٹر عاصم حسین نے جواب دیا کہ ان پر تشدد نہیں کیا گیا۔ جو کچھ میرے ساتھ ہوا، وہ ایک الگ کہانی ہے۔ کیونکہ میری جان کو خطرہ ہے۔ جھگڑا کسی اور کا ہے مجھے پھنسایا جا رہاہے۔ پھر ادھر ادھر دیکھنے کے بعد کہا کہ وہ اس کے بارے میں عدالت کو چیمبر میں بتانا چاہتے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ اوپن ٹرائل ہے جو کہنا ہے آپ یہیں کہیں، آپ کو پورا موقع دیا جائے گا۔ جس پر ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ تفتیشی آفیسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں نے نشاندہی کر دی ہے دہشت گردوں کا اسپتال کے کس وارڈ اور کس آپریشن تھیٹر میں علاج کروایا ہے۔ میں نے اسپتال میں کسی کا علاج نہیں کروایا ہے، ان پر لگایا جانے والا الزام غلط ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا تھا کہ رینجرز اور پولیس اہلکار مجھے میرے ہی اسپتال میںہتھکڑی لگا کر لے گئے، پھر آئی سی یو میں بٹھایا گیا اور واپس لے گئے۔ یہاں کچھ اور بتایا جا رہا ہے۔ جب کہ حراست کے دوران رینجرز کے ساتھ مکمل تعاون کیا تھا۔

Tags: