سپریم کورٹ نے سزائے موت کے2 مجرموں کی پھانسی روک دی

December 9, 2015 3:11 am0 commentsViews: 23

فوجی عدالتوں نے سوات سے تعلق رکھنے والے حیدر علی اور قاری ظاہر کو دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے2 مجرموں کی سزائوں پر عملدر آمد روکنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے پیر کو حیدر علی اور قاری ظاہر نامی ملزمان کو16 دسمبر کو سزائے موت نہ دینے کا حکم دیا ، چیف جسٹس سے درخواست کی ہے کہ وہ حیدر علی اور قاری گل کی اپیلوں کی سماعت کیلئے بڑا بنچ تشکیل دیں۔ سوات کے علاقے دیولئی سے تعلق رکھنے والے ملزم حیدر علی کو سیکورٹی فورسز نے2009 میں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ حیدر علی اور قاری ظاہر ان 6 مجرموں میں شامل ہیں جنہیں فوجی عدالتوں نے کچھ عرصہ قبل سوات میں سیکورٹی فورسز اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے الزام ثابت ہونے پر موت کی سزا سنائی تھی۔ ان دونوں کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین کو نہ تو وکیل کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور نہ ہی ان کی سزائے موت کے مقدمے کا ریکارڈ فراہم کیا گیا ہے۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس صورتحال میں عدالت یا تو انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے متعلق آئین کے آرٹیکل دس اے کو ختم کر دے یا پھر ان سزائوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔

Tags: