رینجرز کی کارروائیوں سے جرائم80 فیصد کم ہوگئے

December 10, 2015 1:05 pm0 commentsViews: 17

شہر میں ٹارگٹ کلنگ، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے
لاہور( نیوز ڈیسک) رینجرز نے کراچی میں دہشت گردی‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتوں پر60 سے80 فیصد تک قابو پالیا‘5805ٹارگٹڈ آپریشنز میں 235 دہشت گرد اور131 خطرناک مجرم مارے گئے‘ رینجرز نے826 دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانوں سے گرفتار کرکے خطرناک اسلحہ‘ گولہ بارود‘ بم اور خودکش جیکٹس بھی برآمد کی ہیں‘ گرفتار ملزمان میں بھارتی خفیہ ایجنسی’’ را‘‘ سے تعلق رکھنے والے اور کئی کالعدم تنظیموں کے خطرناک دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ سندھ میں 5 ستمبر2013ء کو رینجرز کو امن و امان قائم کرنے کیلئے انسددا دہشتگردی ایکٹ 1997 ء کے سیکشن4 کے تحت خصوصی اختیارات دیئے گئے تھے ۔ رینجرز نے2 سال اور 2 ماہ کے عرصے میں سندھ میں 5800 سے زائد ٹارگٹڈ آپریشن کئے‘ مجموعی طور پر مقابلوں میں 225 رینجرز اہلکار شہید اور 235 دہشت گرد مارے گئے‘ اس دوران131خطرناک مجرم بھی رینجرز کی گولیوں کانشانہ بنے۔

شہر میں دوسرے روز بھی ،رینجرز کی اسنیپ چیکنگ مسافر گاڑیوں کی تلاشی
نارتھ ناظم آباد ، فیڈرل بی ایریا، لانڈھی، کورنگی، گلشن اقبال، گلستان جوہر اور دیگر علاقوں میں چیکنگ کی گئی
مسافروں کا شناختی کارڈ چیک کرکے کسی بھی مشکوک یا مشتبہ شخص کو حراست میں لینے کی اطلاع نہیں ملی
کراچی(کرائم رپورٹر)رینجرز کی جانب سے اختیارات میں توسیع نہ ہونے کے باوجود شہر بھر میں امن وامان برقرار رکھنے کیلئے اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا ۔رینجرزا ہلکاروں نے شہر کے مختلف علاقوں نارتھ ناظم آباد کے ڈی اے چورنگی، فیڈرل بی ایریا ، نارتھ کراچی ، لانڈھی ، کورنگی، گلشن اقبال ، گلستان جوہر سمیت شہر کے درجنوں مقامات پر رینجرز کی بھاری نفری نے اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ شروع کردیا، اسنیپ چیکنگ شام ساڑھے6بجے شروع کی گئی اس دوران مسافر گاڑیوں کی تلاشی ، مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے گئے،ذرائع کے مطابق مذکورہ اسنیپ چیکنگ کا سلسلہ شہر میں امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کا عمل ہے جو جاری رہے گا،تاہم اس دوران کسی بھی مشکوک یا مشتبہ شخص کو حراست میں لیے جانے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی،واضح رہے کہ رینجرز کے خصوصی اختیارات کی مدت پوری ہونے اور اس میں توسیع نہ ہونے کے بعد رینجرز کی جانب سے کارروائیاں دیکھنے میں نہیں آئی تھیں تاہم گزشتہ دو دنوں میں اسنیپ چیکنگ اور چھاپہ مار کارروائیوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔