عمران فاروق قتل کیس، ایف آئی اے الطاف حسین کیخلاف ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کرسکی

December 10, 2015 1:24 pm0 commentsViews: 25

ایف آئی آر میں نامزد ملزمان میں کسی سے عمران فاروق قتل کیس میں الطا ف حسین کے براہ راست ملوث ہونے کا بیان نہیں دلوایا جاسکا
ایم کیو ایم کا ایف آئی آرسے الطاف حسین کا نام نکلوانے کے لئے پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ، برطانوی پولیس کی بھی مقدمے میں عدم دلچسپی
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) ایف آئی اے کا کاؤنٹر ٹیررازم ونگ قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کے خلاف تاحال کوئی ٹھوس ثبوت حاصل نہیں کر سکا اور دوران تفتیش کسی ایک ملزم نے بھی ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں براہ راست الطاف حسین کے ملوث ہونے کا بیان نہیں دیا جس کی روشنی میں ایم کیو ایم نے ایف آئی آر کے اخراج کیلئے قانون کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر محض خانہ پری ہے جس کا آدھا حصہ ملزمان کے نام اور ایڈریس سے بھرا ہوا ہے۔ ایف آئی آر حکومت پاکستان کی طرف سے ایس ایچ او انسپکٹر کاؤنٹر ٹیرر ازم ونگ ایف آئی اے چوہدری شہزاد ظفر کی جانب سے نامزد7ملزمان کے خلاف زیر دفعہ 109PPC/7ATA/B/34,120/302 کے تحت درج کی گئی جس کے متن کے مطابق ملزمان خالد شمیم، محسن علی سید اور معظم علی ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی سازش میں ملوث ہیں۔ ملزمان نے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل یو کے اور پاکستان میں تیار کی گئی سازش کا نتیجہ ہے جس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، سینئر ممبر افتخار حسین اور نامزد ملزمان باہم صلح و مشورے کے نتیجے میں خالد شمیم اور معظم علی خان نے یو کے جانے کیلئے اے پی ایم ایس او کے رکن محمد کاشف خان کامران اور سید محسن علی کو ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کیلئے سہولت کار فراہم کی جنہوں نے16 ستمبر 2010 شام ساڑھے پانچ بجے گرین لین، ایڈویئر لندن کے علاقے میں باہم صلح مشورے اور مل کر ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ایف آئی آر میں کسی ایک بھی ملزم سے براہ راست قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کا نام نہیں اگلوا سکی۔ دوسری طرف لندن پولیس یا اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے بھی پاکستا ن میں درج ہونیوالے مقدمے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق چونکہ کرائم سین لندن میں ہے اور مقدمے کو آگے بڑھانے کی خاطر جائے وقوعہ کا نقشہ مقدمے کا اہم ترین حصہ ہوتا ہے لہٰذا اس ضمن میں ایف آئی اے کی تفتیشی ٹیم ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر کرائم سین و دیگر اہم معلومات حاصل کرنے کیلئے لندن جائے گی۔