کرائم سین پر تمام شواہد کی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈنگ ہوگی

December 10, 2015 1:45 pm0 commentsViews: 31

تھری ڈی لیزر امیجنگ ٹیکنک کے حوالے سے پولیس افسران کو بریفنگ دی گئی
جدید ٹیکنک دہشت گردی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں کارآمد ثابت ہوگی، غلام قادر تھیبو
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ پولیس کے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ونگ نے انسداد دہشت گردی ، انویسٹی گیشن اور ٹریفک مینجمنٹ نظام میں سندھ پولیس کی استعدادی صلاحیت بڑھانے اور اس سے منسلک جملہ اقدامات کو مزید تقویت دینے کے ضمن میں پروپوزل تیار کیا ہے جسکے تسلسل میں سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ایڈیشنل آئی جی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ غلام قادر تھیبو کی ذیر صدارت اجلاس میں برطانوی ایڈوانس لیزر منیجنگ ادارے کے نمائندے مارک انتھونی نے تھری ڈی لیزر منیجنگ تیکنیک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اس موقع پر ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز سندھ عبدالعلیم جعفری ، ڈی آئی جی ایڈمن کراچی سلطان علی خواجہ ، ڈی آئی جی آر آر ایف ڈاکٹر امین یوسف زئی ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ ذوالفقار لاڑک ،ڈی آئی جی ٹی اینڈ ٹی کامران رشید ، اے آئی جی سی ٹی ڈی ، اے آئی جی آپریشنز ، ڈائریکٹر آئی ٹی و ڈائریکٹر پریس سی پی او ڈاکٹر معیزالدین پیر زادہ بھی موجود تھے۔مارک انتھونی نے دوران بریفنگ لیزر امیجنگ تیکنیک کی افادیت اور پولیسنگ اقدامات میں اسکی اہمیت کا احاطہ کرتے ہوئیبتایا کہ اس تیکنیک سے کرائم سین پر تمام شواہد کی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈنگ کی جاسکے گی اور یہ ریکارڈنگ کسی بھی طور ناقابل تبدیل ہں وگی۔کرائم سین پر مختلف امور کے حوالے سے درکار افرادی قوت میں کمی ممکن ہوگی جس سے شہادتیں ضائع ہونے کے امکانات بھی کم ہں وجائیں گے۔تفتیش ہر لحاظ سے نا صرف متوازن بلکہ نتیجہ خیز بھی ہوسکے گی ۔ اس تیکنیک سے کرائم سین پر آنکھ سے نظر نہ آنیوالی تمام مخفی شہادتیں بھی سامنے آسکیں گی۔انہوں نے اجلاس کو مذید بتایا کہ دہشت گردی جیسے درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں میں یقینی کامیابی کے لئے یہ جدید تیکنیک انتہائی کارآمد اور مفید ہے۔ اس تیکنیک کے استعمال سے کسی بھی عمارت ودیگر مقامات پر محاذ آرائی میں ملوث چھپے ہوئے دہشت گردوں کی درست لوکیشن کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جس سے پولیس کی جانب سے ایمر جنسی رسپانس اور کاروائی میں نمایاں کامیابی حاصل ہوگی اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کسی بھی اہم ایونٹ جلسے جلوسوں اجتماعات وغیرہ کی ایڈوانس سوئپنگ میں اس تیکنیک کو استعمال کرتے ہوئے سیکیورٹی کو مزید غیر معمولی بنایا جاسکتا ہے۔