بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے پر 7سال قید کی سزا ہوگی، ترمیمی بل منظور

December 11, 2015 11:45 am0 commentsViews: 18

جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بچوں کی تصاویر وغیرہ کے اثرات کو روکنے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے، پرویز رشید
اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہوں کے لئے 96کروڑ روپے ادا کئے، پارلیمانی سیکریٹری ،پاک بھارت اعلامیہ پر اعتراضات ہیں ،شیریں رحمن
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی نے بچوں کو تحفظ دینے، ان کی اسمگلنگ روکنے، جنسی تشدد کے واقعات میں کمی سمیت ملوث عناصر کو سخت سزائیں دینے کیلئے فوجداری قانون ( ترمیمی) بل2015ء کی کثرت رائے سے منظوری دیدی ہے جس کے تحت بچوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے ، انہیں ورغلانے، بیہودہ نمائش کرنے، فحش نگاری کرنے والوں کو 7 سال قید اور7 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت توانائی کے26 منصوبوں کی تفصیلات بھی پیش کر دی گئیں۔ قومی اسمبلی میں وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے تحریک پیش کی کہ فوجداری قانون( ترمیمی) بل2015ء منظور کیا جائے۔ ایوان سے تحریک کی منظوری کے بعد اسپیکر نے بل کی توثیق وار منظوری کیلئے ایوان میں پیش کیا اور تمام شقوں کو منظور کرلیا گیا۔ قبل ازیں وزیر قانون سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ جدید ٹیکنا لوجی کے ذریعے بچوں کی تصاویر وغیرہ کے اثرات کو رکنے کیلئے قانون سازی کی گئی ہے۔ 14 سال کا بچہ سمجھدار ہوجاتا ہے اس لئے عمر کی حد 14 سال رکھی گئی ہے۔ عمر کے حق کے حوالے سائبر کرائمز بل پر بھی ہمارے تحفظات ہیں ہم اس بل کی حمایت نہیں کر سکتے۔ علاوہ ازیں وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکریٹری پیداوار راؤ اجمل نے ایوان کو بتایا کہ اسٹیل ملز کو خسارے سے نکالنے کیلئے اپوزیشن کے پاس کوئی اچھی تجاویز ہوں تو ہمیں آگاہ کرے ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں 96 کروڑ روپے ادا کر دئے ہیں۔ اسٹیل ملز کے ملازمین کی بڑی تعداد ایم کیو ایم نے ہی بھرتی کی ہے۔ ہم نے نیب کو سات مقدمات بنا کر ارسال کئے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی نے کہا کہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ صرف نقصان دینے والے علاقوں میں کی جاتی ہے۔ صنعتوں کے لئے لوڈ شیڈنگ زیرو کر دی گئی ہے۔ بلوچستان کیلئے وزیر اعظم نے خصوصی احکمات دئیے بلوچستان سے ہمارے45 ارب روپے کے بقایا جات ہیں۔ علاوہ ازیں نکتہ اعتراض پر شیریں مزاری، شفقت محمود، شازیہ مری اور دیگر نے کہا کہ پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ پر تحفظات ہیں۔