عالمی اردو کانفرنس میں تین کتابوں کی تقریب رونمائی

December 11, 2015 12:19 pm0 commentsViews: 43

اختر وقار عظیم کی کتاب ہم بھی وہاں موجود تھے ٹیلی ویژن کی تاریخ ہے فرہاد زیدی اور حسینہ معین کا اظہار خیال
کلیات انور شعور اور صابر ظفر کی کتاب مذہب عشق پر بھی بات کی گئی
کراچی (اسٹاف رپورٹر)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی آٹھویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن بھی تین کتابوں کی رونمائی ہوئی۔جن میں انور شعور کی کلیات انور شعور‘صابر ظفر کی کتاب عشق‘ اور پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی اختر وقار عظیم کی کتاب’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ شامل ہیں۔رونمائی کی صدارت سنیئر صحافی فرہاد زیدی نے کی ۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی صدارتی تقریر میں اختر وقار عظیم کی کتاب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب اختر وقار عظیم کے پاکستان ٹیلی ویژن سے طویل تعلق کی روداد ہے۔جس میں بہت سے پس پردہ واقعات بھی نمایاں ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کتاب میں لکھے گئے وزیراعظم بے نظیر بھٹو ،وزیر اعظم محمد خان جونیجو اور وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں پس پردہ دلچسپ واقعات سنائے ۔ نامور ڈرامہ نگار حسینہ معین نے کہا کہ اس کتاب کو سوانح عمری بھی کہا جاسکتا ہے اور پی ٹی وی کی تاریخ بھی۔یہ پہلی کتاب ہے جس میں پاکستان ٹیلی ویژن اور اس کے بانیوں کے ساتھ انصاف کیا گیا ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو ٹیلی ویژن کے اندر کو آپ کے سامنے لاتی ہے۔صاحب کتاب اختر وقار عظیم نے کہا کہ یہ کتاب نہ تو سوانح عمری ہے اور نہ ہی ٹیلی ویژن کی تاریخ ہے میں نے اس کتاب میں اپنے کچھ خوشگوار تجربات اور واقعات کو قلمبند کیا ہے۔نامور شاعرانور شعور کی کتاب میں ’کلیات انور شعور‘کے بارے میں ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں انور شعور کی تمام غزلیں ایک جگہ جمع ہوگئی ہیں۔انور شعور ایک ایسے غزل گو ہیں جو اپنے معاصرین سے منفردہیں وہ اپنی شاعری میں فرقہ ملامت کے آدمی نظر آتے ہیں۔ان کی شاعری میں امید اور ناامیدی دونوں نظر آتے ہیں ۔صابر ظفر کے مجموعہ کلام مذہب عشق کے بارے میں ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے کہا کہ صابر ظفر وہ واحد شاعر ہیں جن کے کلام میں پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے الفاظ ملتے ہیں۔یہ کمال کے شاعر ہیں اور ان کی کتاب مذہب عشق میں ان کی 1974سے لے کر 2000تک کی شاعری شامل ہے۔جو 10مجموعہ غزل پر مشتمل ہے اور اب تک صابر ظفر کی 37کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ان کانام شعری منظر نامے میں ایک ناقابل تردید حقیقت کی طر ح جگمگا رہا ہے۔

عالمی اردو کانفرنس ، خطے میں امن کے مسائل پر اہم تبادلہ خیال
پاکستان اور ہندوستان میں مائنڈ سیٹ بہت خطرناک ہے، ہما بقائی الیکٹرانک میڈیا خطرناک بنتا جارہا ہے، عبید صدیقی
صرف ہمارا خطہ نہیں پوری دنیا افرا تفری کا شکار ہے، افتخار عارف، شمیم حنفی،رضا علی عابدی ودیگر شخصیات کا اظہار خیال
کراچی( اسٹاف رپورٹر)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی آٹھویں عالمی اردو کانفرنس میں خطے میں امن کے مسائل پر بھی بات ہوئی۔ اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جعفر احمد کے ذمہ تھی اس موقع پر پاکستان کی معروف تجزیہ کارڈاکٹر ہما بقائی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان میں مائنڈ سیٹ بہت خطر ناک ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بہروں کی سی گفتگو ہوتی ہے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سویلائز جنگیں ہوتی ہیں۔ ہما بقائی نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ بھارت سے ہر جنگ کی شروعات پاکستان نے کی ہیں لیکن انڈیا بھی اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتا ۔جمہوریت بہتر ہوتی ہے جب جمہوریت ہوتی ہے تو جنگ نہیں ہوتی ہے۔افتخار عارف نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی منافرت ہندوستان سے زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ہمارا ہی خطہ پریشانی میں مبتلا نہیں ہے بلکہ پوری دنیا افراتفری کا شکار ہے۔کچھ طاقتیں ہیں جن کی نظر مشرق وسطیٰ کے بعد ہمارے خطے پر ہے ۔ہوسکتا ہے کہ نئی پاک بھارت ملاقاتیں بھی کسی کے حکم پر ہوتی ہوں۔افتخار عارف نے کہا کہ میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے کوئی مثبت نہیں ہے ۔ہندوستان سے آئے ہوئے دانشور شمیم حنفی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پاس امن کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔جنگوں کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا اب ہمیں پر امن طریقے سے زندگی گذارنی چاہیے۔بر طانیہ میں رہنے والے براڈ کاسٹر و دانشور رضا علی عابدی نے کہا کہ ہم ایک بات بار بار سنتے چلے آرہے ہیں کہ آپ اپنا پڑوسی تبدیل نہیں کر سکتے۔دونوں ممالک میں جو سیاست کی کھجلی ہے ہمیں اس کے ساتھ جینا پڑے گا۔دونوں ممالکوں کے درمیان فہم و فراست کی کمی نظرآرہی ہے ہمیں صرف پاکستان اور بھارت نہیں بلکہ ایران،افغانستان اور بر ما وغیرہ پر بھی بات کر نی چاہیے۔ انہوں نے کہ دہشت گردی پاکستان اور ہندوستان کا مشترکہ دکھ ہے دونوں ممالک میں غربت بہت زیادہ ہے اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ہندوستان کے صحافی عبید صدیقی نے کہا کہ دونوں ممالک میں الیکٹرانک میڈیا بہت بڑا خطر ہ بن گیا ہے۔جو معمولی مسائل بھی بڑا بنا کر پیش کرتاہے۔عبید صدیقی نے بتا یا کہ ہندوستان میں را کے سابق چیف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نواز شریف اورواجپائی کے درمیان کشمیر کا مسئلہ حل ہوتے ہوتے رہ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں اشاروں میں گفتگو کر نے کے بجائے صاف گوئی سے کام لینا چاہیے۔ ڈاکٹر جعفر احمد نے کہاکہ خطے کے حالات اب تک نہیں بدلے لیکن اب بہتری کے کچھ اشارے ملے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان علم اور کتابوں کا تبادلہ نہیں ہوتا جو خرابی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔