بدعنوانی کا انکشاف،واٹر بورڈ میں محکمہ ریونیو کے افسران آمنے سامنے آگئے

December 11, 2015 12:22 pm0 commentsViews: 27

محکمہ ریونیو گلشن اقبال ٹاؤن کے افسران کی مبینہ کمیشن خوری کے باعث ادارے کے کروڑوں روپے کے واجبات داؤ پر لگ گئے
نجی سوسائٹیز اوربلڈرز سے مبینہ مک مکا کرکے قوانین کے خلاف اسپیشل بلز جاری کئے گئے، واٹر بورڈ کو بھاری نقصان
کراچی (سٹی رپورٹر) واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے محکمہ ریونیو اینڈ ریکوری میں بد عنوانی کے انکشاف کے بعد افسران آمنے سامنے آگئے ،،محکمہ ریونیو گلشن اقبال ٹاؤں کے افسران کی مبینہ بھاری کمیشن کے عوض ملی بھگت کے باعث واٹر بورڈکے کروڑوں کے واجبات داؤپرلگ گئے ۔ پرائیویٹ سوسائٹیز اور بلڈرز کے ساتھ مبینہ طور پر مک مکا کرکے قوانین کے خلاف ریٹیل کے بلز جاری کئے جانے کا انکشاف‘ تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے شعبہ ٹیکس (ریونیو) کے بلک اور ریٹیل کے افسران میں محاذ آرائی جاری ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر بورڈ کے بلک صارفین سے واجبات ختم کرائے بغیر شعبہ ریٹیل کے افسران کی جانب پرائیویٹ سوسائٹیز اور بلڈرز کے ساتھ مک مکا کرکے ریٹیل کے بلز جاری کرکے واٹر بورڈ کو کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم کردیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ الہلال کو آپریٹو سوسائٹی پر واٹر بورڈ شعبہ بلک کے 26 لاکھ 91 ہزار روپے واجب الادا ہیں، گلشن اقبال زون کے دیگر پروجیکٹ کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ منیر فونٹین پر 55لاکھ 8 ہزار روپے، سفاری سن لے کوٹیجز پر 52 لاکھ 43 ہزار روپے، گلیمر ٹاور پر 23 لاکھ 82 ہزار 900 روپے، اولمپک ہائٹس پر 20 لاکھ 11 ہزار 670 روپے، فرینڈز ٹاور پر 11 لاکھ 48 ہزار 860 کے علاوہ دیگر درجنوں کو آپریٹو سوسائٹیز اور بلڈرز پروجیکٹس پر واٹر بورڈ شعبہ بلک کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی پر بھی شعبہ بلک کے 40 لاکھ روپے سے زائد کے واجبات بتائے جاتے ہیں تاہم ان واجبات کی ادائیگی کے بغیر ہی شعبہ ریٹیل کے افسران نے بیشتر سوسائٹیز اور پروجیکٹس کو ریٹیل کے بلز جاری کردیئے ہیں جبکہ دوسری طرف شعبہ بلک سے بھی بلز جاری کئے جانے پر ایک ہی پروجیکٹس پر واٹر بورڈ کے دو شعبوں کی جانب سے بلز جاری کئے جانے پر بعض سوسائٹیز نے عدالت عالیہ سے رجوع کر رکھا ہے جس پر واٹر بورڈ کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔