ڈاکٹر عاصم کو مارنے کا منصوبہ بن گیا تھا،شاہد مسعود کا انکشاف

December 12, 2015 3:58 pm0 commentsViews: 32

ضیاء الدین اسپتال میں ان دہشت گردوں کا علاج کیا گیا جن کے سر پر سندھ حکومت نے انعام مقرر کررکھا تھا، ڈاکٹر عاصم نے اعتراف بھی کیا ہے
قتل کرنے کے لیے دو ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئی تھیں،منصوبے کے انکشاف پر رینجرز نے اس پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا جہاں ڈاکٹر عاصم کو رکھا گیا تھا، مارنے کے بعد الزام رینجرز پر لگایاجاتا
رہائی کے بعد ڈاکٹر عاصم کی جان بچ گئی، نیب کی تحویل میں آنے کے بعد قدرے محفوظ ہیں، جوآدمی پولیس کے پاس چلاجائے مافیا اس پر اعتبار نہیں کرتی، معروف تجزیہ کار کا ٹی وی پروگرام میں اظہار خیال
کراچی( نیوز ڈیسک) سندھ رینجرز کے پراسیکیوٹر نے ڈاکٹر عاصم حسین کی سنسنی خیز انکشافات پر مبنی جے آئی ٹی رپورٹ انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو پیش کردی گئی‘ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے اپنے اسپتالوں میں کالعدم تنظیموں کے ایسے دہشت گردوں کا رعایتی علاج معالجہ کیا جن کے سرپر حکومت سندھ نے انعام مقرررکھا تھا کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو جاری کردہ بلوں کی کاپیاں عدالت میں پیش کردی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رینجرز کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے ڈاکٹر عاصم حسین کی جے آئی ٹی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کردی ملزم سے پانچ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے تفتیش کی‘ رپورٹ کے مطابق ملزم نے جے آئی ٹی میں سیاسی جماعتوں ‘عسکریت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کو ضیاء الدین اسپتال میں علاج معالجہ فراہم کرنے کا اعتراف کیا‘ جے آئی ٹی کے مطابق ڈاکٹرعاصم کے اسپتال میں لیاری گینگ وار کے شیراز کامریڈ‘ آصف نیاز‘ ظفر بلوچ‘ زاہد لاڈلہ ‘عمر کچھیاور دیگر کا علاج پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل‘ ثانیہ ناز اور دیگر سیاسی رہنمائوں کی ہدایت پر کیا گیا‘ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان دہشت گردوں کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر حکومت نے انعام مقرر کررکھا تھا اور اسی دوران یہ ملزم ضیاء الدین اسپتال سے رعایتی پیسوں میں علاج معالجہ کرارہے تھے‘ زیر علاج دہشت گردوں کے رعایتی علاج کے بل کے نقول اور ملزموں کے سر کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کردیا گیا ‘ جے آئی ٹی کے مطابق ڈاکٹر عاصم نے36 نجی کمپنیاں اپنے نام پر منتقل کرائیں جن کے ذریعے دو سو سات مرتبہ غیر قانونی طور پر بیرون ملک رقم منتقل کی گئی۔

کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی مشیر ڈاکٹر عاصم کو رہا نہ کیا جاتا تووہ رینجرز کی حراست میں قتل کردیئے جاتے‘ ڈاکٹر عاصم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنالیا گیا تھا۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو گزشتہ رات مارنے کا پروگرام تھا جس کیلئے2ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی تھیں‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو پولیس کی حراست سے نکال کر شوٹ کئے جانے کا پروگرام تھا جس پر رینجرز موقع پر پہنچ گئی‘ انہوں نے کہا کہ جو آدمی پولیس کے پاس ہو کر آجائے اس پر پھر مافیا اعتبار نہیں کرتا‘ اس کو مار دیا جاتا ہے‘ ڈاکٹر عاصم نے بھی غصیمیں آکر کہہ دیا کہ رینجرز مجھے مارے گی‘ اب جب یہ پولیس کے پاس چلے گئے تو وہاں حساس اداروں نے اس پر نگاہ رکھی کہ کہیں ان کو مار کر الزام رینجرز پر نہ ڈال دیا جائے‘ اس کے بعد ان کو پولیس کی طرف سے کلین چٹ دی گئی تو پھر خبر آئی کہ ان کو مارنے کا پلان بن گیا ہے جس کے بعد رینجرز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا کہ کہیں یہ مصیبت ان کے گلے میںنہ پڑ جائے‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کو مبارکباد ہے کہ ان کو رہا نہیں کیا گیا اور ان کی جان بچ گئی انہوں نے کہا کہ نیب ان کو تحویل میں لے کر میٹھا رام چلی گئی جہاں ان کا عمل دخل بھی ہے‘ انہوں نے کہا کہ اب سننے میں آیا ہے کہ فریال تالپو ر پر سہولت کار کے الزامات ہیں‘ رینجرز کی جھجک اب ختم ہوگئی ہے اور فریال تالپور اور قادر پٹیل کا نام بھی رینجرز نے رپورٹ میں ڈال دیا ہے‘ ان پر بھی ڈاکٹر عاصم حسین جیسے الزامات ہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب عذیر بلوچ کے نکلنے کا وقت اگیا ہے اور عذیر بلوچ کہیں آس پاس ہی ہیں۔