سندھ حکومت نے ایک شخص کیلئے رینجرز کے اختیارات کو متنازع بنادیا،اظہار الحسن

December 12, 2015 4:16 pm0 commentsViews: 28

اگر دہشت گرد کراچی سے نکل کر اندرون سندھ چلے گئے تو رینجرز کے اختیارات صرف کراچی تک محدود کیوں ہیں
ایجنڈے میں رینجرز کے اختیارات کا معاملہ قرارداد میں شامل ہونے کے باوجود اسمبلی میں پیش نہ کرنے سے اس کی حیثیت ختم ہوگئی
کراچی( اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ایک شخص کو بچانے کیلئے رینجرز کے اختیارات کو متنازعہ بنا دیا ہے۔ ایجنڈے میں قرار داد کے باوجود اسمبلی میں پیش نہ کرنا اور پھر اجلاس ملتوی کر دینے سے اس قرار داد کی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ اب اس قرار داد کو پیش کرنے کے لئے اسے نئے ایجنڈے کا حصہ بنانا ہوگا۔ حکومت سندھ جواب دے کہ اسے آج رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی اسمبلی سے توثیق کی ضرورت پیش آرہی ہے۔ پہلے اختیارات کی اسمبلی سے توثیق کیوں نہیں کروائی گئی، رینجرز کی قرار داد کے معاملے میں ایم کیو ایم اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے۔ اس معاملے پر حکومت سندھ واضح پالیسی کا اعلان کرے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سیاسی حالات سے ایسا لگ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور دیگر جماعتوں کی کوئی خفیہ ڈیل ہو چکی ہے۔ اس لئے آج ان جماعتوں نے رینجرز کے اختیار ات حاصل نہیں ہیں۔ کے ایم سی کے تمام اہم محکمے بلدیاتی قانون کے ذریعہ واپس لے لئے گئے ہیں، ان محکموں ک دوبارہ کے ایم سی میں لانے اور مقامی نمائندوںکو با اختیار بنانے کیلئے اسمبلی میں بھر پور آواز اٹھائیں گے خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ مالی طور پر کراچی سندھ سے پہلے ہی الگ کر دیا گیا تھا، اب حکومت کے اس اقدام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انتظامی طور پر بھی کراچی کو سندھ سے الگ کیا جا رہا ہے پورے سندھ کے لئے یکساں نظام ہونا چاہئے۔ صوبائی مشیر مولانا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کراچی سے نکل کر اندرون سندھ چلے گئے ہیں۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو رینجرز کے مخصوص اختیارات صرف کراچی تک محدود کیوں ہیں۔ اگر حکومت نے دو طرح کے اختیارات دینے کی کوشش کی تو ہم مزاحمت کریں گے۔ اب ڈیل پروگرام نہیں چلے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت بھی تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لئے صوبے اور وفاق کو مل کر رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے کو حل کرنا چاہئے۔ اگر تصادم کی راہ اختیار کی گئی تو خوفناک نتائج بر آمد ہوں گے۔