عزیر بلوچ بھتے کی رقم کا 66فیصد حصہ بلاول ہائوس پہنچاتا تھا

December 12, 2015 4:54 pm0 commentsViews: 47

کراچی میں رینجرز آپریشن شروع ہونے کے بعد غیر قانونی طریقے سے فرار ہوکردبئی چلا گیا تھا جہاں سے انٹرپول کے ذریعے پکڑا گیا
بینظیر بھٹو کے چیف سیکورٹی آفیسر خالد شہنشاہ کو بھی لیاری گینگ وار کے کارندوں نے ٹھکانے لگایا، عزیر بلوچ تمام راز اگل چکا ہے، اخبار کی رپورٹ
راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اور وزارت داخلہ کی جانب سے ملک بھر میں سیاسی اور مذہبی اور کالعدم جماعتوں کے عسکری ونگز کے خلاف ملٹری آپریشن جاری ہے جس کا دائرہ کار کراچی سے خیبر تک ہے۔ سندھ رینجرز کی جانب سے کراچی آپریشن کے بعد کراچی کی صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے اور پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی میں بڑے بڑے برج الٹ گئے انہی لوگوں میں سے ایک سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دست راست لیاری گینگ وار اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ سردار عذیر بلوچ کا ہے جو مبینہ طور پر اپنے کارندوں کے ذریعے کراچی بھر سے بھتہ، ٹارگٹ کلنگ کی مد میں جمع ہونے والی اربوں روپے کی رقم میں سے65% حصہ بلاول ہائوس پہنچاتا تھا۔ کراچی میں رینجرز کی جانب سے شروع کئے گئے ملٹری آپریشن کی وجہ سے یہ شخص غیر قانونی طریقے سے فرار ہو کر دبئی چلا گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بے نظیر قتل کے قتل اور اس قتل سے جڑے ہوئے تمام گواہوں اور ثبوتوں کو مٹانے میں مرکزی کردار رہا ہے،۔ عذیر بلوچ ایران کی شہریت رکھتا ہے اور ایرانی انٹیلی جنس کیلئے بہت عرصہ کام کرتا رہا اس کے فرار پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی متحرک ہوئیں اور اس کا کھوج دبئی سے نکال لیا اور آخر کار پاکستانی حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد انٹر پول کے ذریعے پاکستان لایا گیا اس شخص کو حاصل کرنے کیلئے ایرانی حکومت نے بھی سر توڑ کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکی، ذرائع کے مطابق بے نظیر بھٹو کے چیف سیکورٹی آفیسر خالد شہنشاہ جو کہ بعد میں بلاول ہائوس کلفٹن کے سیکورٹی انچارج بنے اس کو بھی لیاری گینگ وار کے کارندوں نے ٹھکانے لگا دیا اس وقت عذیر بلوچ کس سیکورٹی ایجنسی کی تحویل میں ہے یہ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا لیکن قیاس آرائی ہے کہ وہ تمام راز اگل چکے ہیں جو ان کے سینے میں دفن تھے کہ کس طرح سابق صدر آصف علی زرداری اور اس کی ہمشیرہ فریال تالپور نے اس کو اور گینگ وار کارندوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا ساتھ ہی اس وقت کے وزیر داخلہ سندھ نے عذیر بلوچ گروپ کو مستحکم اور منظم کرنے کیلئے لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار عبدالرحمن بلوچ عرف رحمن ڈکیت مرحوم کو ایس ایس پی چوہدری اسلم کے ذریعے پولیس مقابلے میں قتل کروا دیا اور ہزاروں کی تعداد میں اسلحہ لائسنس پرمٹ بھی جاری کئے۔