وفاق اور سندھ کاتنازعہ حل کرانے کیلئے سیاسی قوتوں کا رابطہ

December 14, 2015 12:51 pm0 commentsViews: 31

رینجرز اختیارات کے حوالے سے معاملات حل نہ ہوئے تو وفاق بتدریج اپنے آئینی اختیارات استعمال کرسکتا ہے
اعلیٰ سیاسی رابطوں کے بعد سندھ حکومت کے اہم حلقوں کا پیغام ، وفاقی حکومت تک پہنچا دیا گیا، صوبے کے معاملات میں مداخلت سے گریز کا مطالبہ
کراچی(اسٹاف رپورٹر) وفاقی اورسندھ حکومتوں کے درمیان رینجرزکے اختیارات میں توسیع کے معاملے پرپیدا ہونے والے تنازع کوحل کرانے کے لیے پس پردہ اہم سیاسی قوتوں نے اپنے رابطے شروع کردیے ہیں اورتوقع کی جارہی ہے کہ اس معاملے کوڈائیلاگ سے حل کیاجاسکتا ہے۔وفاقی حکومت کے اہم ذرائع کاکہنا ہے کہ اگرمعاملات حل نہ ہوئے تووفاق بتدریج اپنے آئینی اختیارات استعمال کرسکتا ہے لیکن سندھ میں گورنر راج لگانے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔یہ آپشن آخری اورانتہائی صورت میں استعمال ہوسکتا ہے لیکن اس سے قبل وفاقی حکومت اس کے ہر پہلواورسیاسی حالات کومدنظر رکھے گی۔اہم ذرائع سے معلوم ہواہے وفاقی حکومت کے حلقوں نے سندھ میں کوئی غیرآئینی اقدام اختیارکرنے کے تاثر کی نفی کردی ہے ۔ان رابطوں کے توسط سے سندھ حکومت کے اہم حلقوںکا پیغام وفاقی حکومت تک پہنچا دیا گیا ہے۔جس میں کہاگیاہے کہ وفاقی وزراکے بیانات سے صورتحال گھمبیرہوئی ہے اوران کی جانب سے سندھ میں مختلف آپشنز کے استعمال کاعندیہ دیناصوبائی خود مختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔اس رابطے میںکہاگیا ہے کہ سندھ حکومت سندھ اسمبلی میں قراردادکے توسط سے رینجرزکوخصوصی اختیارات تقویض کرنے کے لیے تیار ہے اور پیر کو سندھ اسمبلی میں قراردادپیش کردی جائے گی اوراس معاملے کوقانون کے مطابق حل کیاجائے گا۔وفاق کے ذرائع کاکہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے تحفظات کودورکرنے کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا اسحق ڈار،عبدالقادر بلوچ اور دیگر وزیراعظم کی منظوری سے اپوزیشن لیڈرخورشید شاہ کے توسط سے وزیراعلیٰ سندھ سے رابطہ کریں گے لیکن باضابطہ بات چیت رینجرزکے اختیارات میں توسیع کے بعد شروع کی جاسکتی ہے۔

رینجرز کو اختیارات دلانے کیلئے تاجر برادری میدان میں آگئی
سندھ تاجر اتحاد کا رینجرز کو اختیارات نہ ملنے پر مارکیٹوں میں احتجاجی سیاہ بینر لگانے کا اعلان
کراچی میں امن وامان کی بحالی میں رینجرز نے اہم کردار ادا کیا، جمیل پراچہ کی بات چیت
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جس طرح گزشتہ دو سال میں سندھ رینجرز نے امن و امان کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کیا اور شہر کراچی میں بڑی حد تک امن و امان قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ان کے اس بے مثال کارنامے پر سندھ گورنمنٹ کھلے دل کے ساتھ صوبے بھر کیلئے رینجرز کو مکمل اختیارات دے یہ بات سندھ تاجر اتحاد کے چئیرمین جمیل احمد پراچہ نے اپنے دفتر میں آئے ہوئے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ جمیل پراچہ نے کہا کہ اگر سندھ بھر میں امن مستقل طور پر قائم کرنا ہے تو رینجرز کو اختیارات دینا ہونگے اور بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے آدمی کے خلاف اگر کرپشن کے معاملات ہیں اور کوئی شخص کرپشن میں ملوث ہے تو اسکے خلاف کارروائی ہونا چاہیے۔ جمیل پراچہ نے کہا کہ اگر تین سے چار دن کے اندر رینجرز کو اختیارات نہ دئیے گئے تو کراچی سمیت سندھ بھر کی مارکیٹوں میں احتجاجاً سیاہ بینر لگادئیے جائیں گے۔ اس موقع پر جمیل پراچہ کے ہمراہ کاشف صابرانی، اسماعیل لالپوریہ، سلیم میمن، محمد ارشد، سلیم راجپوت، عبد الرحمان خان، آفرین صدیقی، محمد فہد، عبد الغنی، مرزا صادق بیگ، محمد نعیم، اسحاق شیخ، محمد فراز، جمیل احمد، سلیم بٹلا، محمد شکیل، شاہد بھورہ، مقصود احمد، سلطان خان، زاہد خان، محمد شہزاد، ایوب نظامی، محمد عارف میمن، محمد رفیق، محمد مسعود، محمد عاصم بھی موجود تھے تمام رہنمائوں نے جمیل پراچہ کے بیان کی تائید کی اور مشترکہ طور پر وفاق اور حکومت سندھ سے اپیل کی کہ آپس کی لڑائی کو بالائے طاق رکھ کر ملک اور خصوصاً صوبہ سندھ کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں۔

پی ٹی آئی رینجرز کے اختیارات کیلئے آج مظاہرہ کرے گی
سندھ حکومت رینجرز کے اختیارات کے معاملے پرٹال مٹول کر رہی ہے، عمران اسماعیل
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ کراچی میں میں قیام امن کے لیے رینجرز کو اختیارات دینا ضروری ہے۔ اگر حکومت سندھ نے اختیارات نہ دئیے تو پی ٹی آئی سندھ اسمبلی سمیت کراچی کی شاہرائوں پر احتجاج کرے گی اور اس حوالے سے پہلا احتجاجی مظاہرہ آج (پیر) کو اسٹار گیٹ شاہراہ فیصل پر کیا جائے گا اور احتجاج کاسلسلہ صوبے بھرمیں وسیع کردیا جائے گا ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو پی ٹی آئی کے رہنما فیصل واڈا کی رہائش گاہ پرپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران اسماعیل نے کہا کہ کراچی آپریشن کے دوران رینجرزکی کارروائیوں سے امن قائم ہوا ہے اور شہر کی رونقیں بحال ہوگئیں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ رینجرز کے اختیارات کے معاملے پر سندھ حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے۔ رینجرز کی کرپشن کے خلاف کارروائی کا براہ راست اثر پیپلزپارٹی کی قیادت پر پڑرہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اپنی کرپشن ونااہلی کو چھپانے کے لیے رینجرز کو اختیارات نہیں دے رہی ہے اور کراچی آپریشن کومنتازع بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔

فنکشنل لیگ کا رینجرز اختیارات میں عدم توسیع پر احتجاج کا اعلان
کراچی سمیت سندھ بھر میں قیام امن کیلئے رینجرز اختیارات میں توسیع کی جائے، صدر الدین شاہ
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہ کرنے کیخلاف سندھ اسمبلی میں آواز اٹھانے اور احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان اتوار کو پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے صدر پیر صدر الدین شاہ راشدی کی صدارت میں ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ فنکشنل لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر صدر الدین شاہ راشدی کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں فنکشنل لیگ کے ارکان اسمبلی جام مدد علی، شہریار خان مہر ، نصرت سحر عباسی اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ اسمبلی کے موجودہ اجلاس میں سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہ کرنے کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی اور فنکشنل لیگ اسمبلی فلور پر رینجرز کے اختیارات میں اضافے کے لئے احتجاج بھی کرے گی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیر صدر الدین شاہ راشدی نے کہا کہ رینجرز نے عوام کی خواہش کے مطابق کراچی میں امن کے لئے کام کیا اور رینجرز کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی دیا ہے جس سے کراچی میں 80 فیصد امن قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز نے دہشت گردوں اور معاشی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی بھی کی جس سے امن وامان برقرار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت رینجرز کی اتنی قربانیوں کے باوجود رینجرز کو محدود کرنا چاہتی ہے اور رینجرز کے اختیارات میں اضافہ نہیں کررہی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ایسا نہ ہو کہ رینجرز کے اختیارات میں اضافے کے لئے کوئی غیر آئینی قدم اٹھالیا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اس کی ذمہ دار موجودہ پیپلز پارٹی کی حکومت ہوگی اور یہ پیپلز پارٹی کی بڑی سیاسی غلطی ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں امن وامان کے قیام کے لئے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی جائے۔

بنارس میں ، سندھ حکومت کیخلاف شہریوں کا مظاہرہ، رینجرز پر گل پاشی
حکومت اپنی کرپشن اور نا اہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے رینجرز کو اختیارات دینے سے گریز اور قربانیوں پر مٹی ڈال رہی ہے
رینجرز کے اختیارات میں فوری توسیع نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا، مظاہرین کا مؤقف
کراچی(اسٹاف رپورٹر)رینجرز اختیارات میں توسیع نہ دینے پر سندھ حکومت کے خلاف بنارس کے سینکڑوں شہری سڑکوں پر نکل آئے ،مظاہرین کا کہنا تھا کہ رینجرز کی قربانیوں اور محنت کو سندھ حکومت ضائع نہ کرے ،شہر کے مستقل امن کے لیے رینجرز کو فوری اختیار ات دیے جائیں ۔دوسری جانب مظاہرے کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی ۔تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے رینجرز کو حاصل خصوصی اختیارات میں ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود توسیع نہ دیے جانے کے خلاف بنارس چورنگی کے اطراف کے مکینوں میں شدید اشتعال پھیل گیا اور سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین رینجرز کے حق اور سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہو ئے بنارس چورنگی پر جمع ہو گئے ۔مظاہرین نے سڑک کو بلاک کرنے کے بعد شدید مظاہرہ شروع کردیا جبکہ مظاہرین نے ہاتھوں میں رینجرز کے حق میں پلے کارڈ بھی تھامے ہو ئے تھے ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اپنی کرپشن چھپانے اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے رینجرز کو اختیارات دینے سے گریز کر رہی ہے اور رینجرز کی تمام قربانیوں کے ساتھ ڈھائی سالہ آپریشن کی کارکردگی کو مٹی میں ملانے کی کوشش میں مصروف ہے ۔سندھ حکومت نے فی الفور اختیارات میں توسیع نہ کی تو مظاہروں کا سلسلہ وسیع کردیا جائے گا ،احتجاج کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو ہٹانے کی کوشش کی جس پر مظاہرین مزید مشتعل ہو گئے تاہم اعلیٰ افسران کی مداخلت کے بعد مظاہرین ایک گھنٹے بعد پرامن طور پر منتشر ہو گئے ۔علاوہ ازیں گزشتہ اتوار کی شام آرٹس کونسل چورنگی پر3 موٹر سائیکلوں پر سوار 7سے 8نوجوان آئے اور وہا ں سیکورٹی کے پیش نظر تعینات رینجرز موبائل پر پھولوں کی بادش کردی‘ گل پاشی کرنیوالوں کا کہنا تھا کہ رینجرز اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کرکے کراچی میں امن قائم کیا یہ‘ آج سندھ ثقافت ڈے منارہے ہیں اور رینجرز کی جانب سے قائم کئے گئے امن کے باعث ایک بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اس لئے ہم رینجرز سے اپنی محبت کااظہار کرنا چاہتے ہیں۔

آئین سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا، گورنر سندھ
رینجرز اختیارات کے حوالے سے کچھ ایشوز ہیں، آرٹیکل 147 کے تحت اسمبلی سے توثیق کرانا ہوتی ہے
وزیراعلیٰ نے بتایا ہے کہ کچھ آئینی تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنے کے بعد اختیارات میں توسیع کر دی جائے گی
کراچی (این این آئی) گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا ہے رینجرز اختیارات کے حوالے سے کچھ مسائل ہیں آرٹیکل 147کے تحت اسمبلی سے توثیق کرانا ہوتی ہے۔ آئین سے کوئی انحراف نہیں کرسکتا ہے ۔اتوار کوکراچی میں پاکستان کسٹم کے تحت ایڈلجی ڈنشا روڈ کی ازسرنو بحالی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے کہا کہ کراچی میں کچھ چیزوں کو ٹھیک کردیں تو شہر چمک جائے گا۔ رینجرز اختیارات کے سوال پر گورنر سندھ نے کہاکہ رینجرز اختیارات کے حوالے سے کچھ ایشوز ہیں اور وزیراعلی سندھ نے کہا ہے کہ اس ضمن میں کچھ آئینی تقاضے ہیں جن کے لیے رینجرز اختیارات کے معاملے کو اسمبلی کے ایجنڈے پر لایا گیا ہے ۔آئین سے کوئی انحراف نہیں کرسکتا اور آرٹیکل 147کے تحت سندھ اسمبلی سے توثیق کراناہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی مدد سے آپریشن جاری ہے اور سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گورنر سندھ نے بتایا کہ آئی آئی چندریگر روڈ اور ایمپریس مارکیٹ کی بھی تاریخی اور ثقافتی حیثیت بحال کرنے کے منصوبے کا آغاز کردیا ہے۔

رینجرز کو ہم نے ہی کراچی میں بلوایا تھا، نثار کھوڑو
آئینی تقاضے کے مطابق اب معاملہ اسمبلی میں پیش کرینگے، ہم چاہتے ہیں لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینئر صوبائی وزیر برائے تعلیم وپارلیمانی امورنثاراحمدکھوڑونے کہاہے کہ صوبے کا امن وامان ہمیں عزیز ہے، ہم نے ہی رینجرزکو کراچی میں بلوایاتھا،آئینی تقاضہ ہے کہ اب معاملہ ہم اسمبلی میں پیش کریں۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی صدر بشارت مرزاکی جانب سے منعقدہ روایتی سالانہ دعوت حلیم میں شرکت کے موقع پرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ اراکین اسمبلی اس بات پر بحث نہ سہی کم ازکم اس کی توثیق کریں گے۔انہوں نے کہاکہ رینجرزکو ہم نے واپس نہیں بھیجاابھی بھی وہ یہیں موجودہے، ان کو جولائی میں ایک سال کے لئے بلایاگیاتھا ،جہاں تک بات اختیارات کی ہے تو لاء انفورسمنٹ اداروں کو حکومتیں ہی بلاتی ہیںاور وہی اختیارات دینے کی مجازہوتی ہیں ،جلد ہی یہ معاملہ حل کرلیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو تحفظ فراہم کیاجائے،ہم ہی نے رینجرزکو کہاکہ آئو اور پولیس کی مددکرو۔انہوں نے کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ صوبے میں امن وامان قائم رہے، ایک اور سوال کے جواب میں نثارکھوڑونے کہاکہ ڈاکٹرعاصم ابھی نیب کے پاس ہیں ،پولیس کے مطابق رینجرزکی طرف سے درج ایف آئی آر میں کافی نقائص ہیں ،پولیس نے تو ایک لحاظ سے ان کو تفتیش سے بری کردیاہے لیکن چونکہ کیس نیب میں ہے اس لئے نیب کے سپرد کیاگیاہے۔