حکومت کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافے کا فیصلہ

December 16, 2015 9:54 pm0 commentsViews: 50

مقامی حکومتوں کو اختیارات دیئے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا،ایم کیو ایم کسی کیخلاف کوئی فرنٹ کھولنے نہیں جارہی، ڈاکٹر فاروق ستار
ملک بھر میں گزشتہ دنوں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا، حکومتی سطح پر مشاورت کے بعد وزیراعظم نوازشریف جلد اختیارات میں اضافے کا اعلان کریں گے
نئے بلدیاتی قوانین بھی متعارف کرائے جارہے ہیں، شہری علاقوں میں مقامی کمیونٹی کے معززین کی سربراہی میں پنچائیت اور مصالحتی انجمن کو فعال کیاجائے گا، مسودے کی تیاریاں جاری ہیں
اسلام آباد( نیوز ڈیسک) حکومت نے ملک بھر میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کرلیا وزیر اعظم آئندہ چند ہفتوں میں اختیارات میں اضافے کا اعلان کریں گے۔ وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ دنوں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا جس کے بعد حکومت نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ حال ہی میں الیکشن کے نتیجے میں منتخب ہونے والے امیدوار اپنے حلقوں میں عوام کی بہتر انداز میں خدمت کر سکیں۔ اس ضمن میں وزیر اعظم نواز شریف22 دسمبر ( منگل) کو ملک بھر سے منتخب ہونے والے نواز لیگ سے تعلق رکھنے والے یو سی چیئر مین کے اجلاس سے خطاب کے دوران کریں گے۔ امکان ہے کہ یو سی چیئر مین کا ایک روزہ کنونشن اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر بلدیاتی اداروں کے اختیارات میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئے بلدیاتی قوانین بھی وضع کئے جائیں گے۔ نئے بلدیاتی قانون کے تحت دیہات اور شہری علاقوں میں مقامی کمیونٹی کے معززین کے سربراہ پنچائیت اور مصالحتی انجمن کا احیاء کیا جا رہا ہے جو سول اور فوجداری مقدمات کے تصفیے خوش اسلوبی سے کرائیں گی جس کے نتیجے میں عدالتوں پر مقدمات کے بھاری بوجھ میں قابل لحاظ کمی آئے گی۔ پنچائیت متعلقہ گائوں یا یونین کونسل ( یو سی) قائم کرے گی جبکہ مصالحتی انجمن پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013ء کے تحت سٹی کونسل قائم کرے گی۔ تاہم نا قابل مصالحت جرم اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گا۔ عدالت اپنے دائرہ اختیار کی حدود کے اندر کسی بھی تنازع کو طے کرنے کیلئے کسی پنچائیت یا مصالحتی انجمن میں بھیج سکتی ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ تھانہ کا انچارج بھی قابل مصالحت مقدمہ پنچائیت یا مصالحت انجمن کو بھیج سکتا ہے علاوہ ازیں کوئی بھی شخص دیوانی ( سول ) یا فوجداری تنازع ان باڈیز میں دائر کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ مقامی حکومتوں کو اختیار دئیے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے مزید کہا کہ کراچی کے نامزد میئر وسیم اختر ماضی میں مختلف سیاسی حکومتوں اور تنظیمی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔ بطور ایڈمنسٹریٹر وسیم اختر کی صلاحیتیں سب پر ثابت ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ایم کیو ایم واضح موقف رکھتی ہے۔ وسیم اختر کے خلاف مقدمات گزشتہ چند مہینوں میں بنائے گئے ہیں جن کا مقصد سیاسی ہے۔ ایم کیو ایم کا دفاع کرنے والوں کو سہولت کار بنا دیا گیا ہے۔ عشرت العباد بھی جب گورنر بنے تھے تو ان کے ساتھ بھی پرانے مقدمے لگے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے میئر کو اختیارات دئیے تو وسیم اختر زیادہ موثر کردار ادا کریں گے۔ اگر اختیارات نہیں دئیے گئے تو بھی وسیم اختر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پر امن طور پر سیاسی جدوجہد کر رہی ہے۔ بے وسیلہ اور بے اختیار نظام کو وسائل و اختیار دلانے کیلئے مستقبل میں سیاسی دھرنے اور احتجاج ہوسکتے ہیں مقامی حکومتوں کو اختیار دئیے بغیر قائم علی شاہ سندھ میں امن قائم نہیں کر سکتے۔ ایم کیو ایم کسی کے خلاف کوئی فرنٹ کھولنے نہیں جا رہی، مقامی حکومتوں کے اختیارات کا معاملہ جمہوریت کی آزمائش ہے۔