رینجرز کے اختیارات محدود سندھ حکومت نے طبل جنگ بجادیا

December 17, 2015 3:36 pm0 commentsViews: 23

پیپلزپارٹی کی حکومت نے رینجرز کے چھاپوں پر قدغن لگادی،دہشت گردوں کی مالی معاونت اور سہولتیں فراہم کرنے کے شک پر کسی کو گرفتار نہیں کیاجاسکے گا
سندھ میں رینجرز کا مستقبل غیریقینی صورتحال کا شکار ہوگیا،سندھ حکومت نے طے کرلیا ہے کہ رینجرز کو واپس بیرکوں میں بھیج دیاجائے تو اسے کوئی پرواہ نہیں ہے، دنیا نیوز کے پروگرام میں کامران خان کا تجزیہ
پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات پابندیوں میں جکڑ دیے اور توسیع کی قرارداد شرائط کے ساتھ منظور کرلی، اپوزیشن جماعتوں کا شدید احتجاج، قرارداد کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر کا گھیرائو کرلیا
سندھ کی سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے رینجرز کے اختیارات میں اضافے کے لیے تحریک چلانے کی تیاریاں شروع کردیں، لطیف پلیجو، قادرمگسی، اسماعیل راہو اور نادر اکمل خان لغاری کا شدید ردعمل
کراچی( اسٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے رینجرز کے اختیارات پابندیوں میں جکڑ دئیے اور توسیع کی قرار داد شرائط کے ساتھ منظور کرلی۔ جس میں مالیاتی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بالواسطہ تحفظ فراہم کیا گیا۔ رینجرز کے چھاپوں پر بھی قد غن لگا ئی گئی۔ اب دہشت گردوں کو مالی معاونت اور سہولتیں فراہم کرنے کے شک پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا اور شواہد کے باوجود کارروائی کیلئے وزیر اعلیٰ سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔ سندھ اسمبلی میں قرار داد کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور قرار داد کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیرائو کیا۔ دوسری جانب دنیا نیوز کے پروگرام میں تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ رینجرز کے اختیارات محدود کرنے پر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے طبل جنگ بجا دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی نے بدھ کو پاکستان رینجرز سندھ کی تعیناتی اور اختیارات حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن 16 جولائی 2015ء کی توثیق کی درخواست ایک قرار داد کے ذریعے مشروط طور پر کثرت سے منظور کرلی۔ یہ قرار داد ایوان میں صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے اسپیکر آغا سراج درانی سے اجازت لے کر پیش کی۔ قرار داد میں رینجرز کی تعیناتی کیلئے کچھ شرائط عائد کی گئیںجن کے مطابق رینجرز کو ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان اور فرقہ وارانہ کلنگ کے خلاف اختیارات حاصل ہوں گے۔ تاہم قرار داد کے مطابق جو شخص دہشت گردی میں براہ راست ملوث نہیں تاہم اس پر دہشت گردوں کی مالیت معاونت یا انہیں دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا شک ہے اسے کسی بھی قانون کے تحت گرفتار نہیں کیا جا سکتا، قرار داد میں یہ کہا گیاہے کہ اگر ایسے شخص کے خلاف مکمل شواہد موجود ہوں، جو اس کی گرفتاری کا جواز پیدا کریں تو گرفتاری سے قبل ایسے شواہد حکومت سندھ کو فراہم کئے جائیں۔ جو شواہد کا جائزہ لے کر اس شخص کی گرفتاری یا عدم گرفتاری کا حکم دے گی۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان رینجرز کو حکومت سندھ کے کسی دفتر یا گورنمنٹ اتھارٹی پر فوری چھاپہ مارنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ اس کیلئے اسے چیف سیکریٹری سندھ سے پیشگی اجازت لینا ہوگی، قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رینجرز سندھ پولیس کے سوا کسی اور ادارے کی معاونت نہیں کرے گی۔ قرار داد پیش ہونے کے بعد اسپیکر آغا سراج درانی نے منظوری کیلئے ایوان کے سامنے پیش کی جو کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ اس موقع پر اپوزیشن جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ فنکشنل، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ارکان نے رینجرز اختیارات کو جکڑنے اور مشروط قرار داد منظور کرنے کی مخالفت کی اور ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن اراکین نے قرار داد کی کاپیاں پھاڑ کرپھینک دیں اور اپنی نشستوں سے اٹھ کر اسپیکر کے ڈائس کا گھیرائو کیا اور گو کرپشن گو کے نعرے لگائے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو جاری رکھا۔ جس پر اپوزیشن نے واک آئوٹ کیا۔ بعد ازاں اپوزیشن کے ارکان واپس ایوان میں آئے اور دوبارہ اسپیکر کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ اسپیکر نے ایجنڈے کے10 نمبر تک کی کارروائی مکمل کی اور اجلاس جمعہ کی صبح10 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی ایوان میں موجود تھے۔ سندھ اسمبلی میں رینجرز کے اختیارات کی مشروط قرار داد پیش ہونے پر سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا کہ رینجرز کا مستقبل اب سندھ میں غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے حکومت سندھ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر رینجرز کو واپس بیرکوں میں بھیج دیا جاتا ہے تو اسے پروا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک جنگی ماحول شروع ہوا ہے اور وعدہ پورا ہوگیا ہے جو آصف زرداری نے16 جون کو اپنی تقریر میں کیا تھا کہ وہ جنگ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بھی لڑیں گے ہمیں جنگ آتی ہے اور کسی کو نہیں آتی لگتا ہے انہوں نے اب اپنے پتے دکھا ئے ہیں۔ قرار داد کی منظوری میں بٖڑی تیزی دکھائی گئی، لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ رینجرز اس کی مرضی اور احکامات کے مطابق کام کریں گے، ایک بحران اور جنگ کی سی صورتحال ہے پیپلز پارٹی کی حکومت نے طبل جنگ بجا دیا اور سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت رینجرز کو پیغام دیا کہ شاید ان کی اب ضرورت نہیں رہی۔ علاوہ ازیں سندھ کی قوم پرست اور سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں نے صوبائی حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات پر لگائی گئی قد غن فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رینجرز کو اختیارات نہ ملنے پر تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت نے کرپشن میں ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس لئے وہ نہیں چاہتی کہ کرپشن کے ذریعے جمع کی جانے والی رقم واپس سرکاری خزانے میں جمع کرانی پڑے۔ سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اپنی معاشی دہشت گردی کے خلاف رینجرز کی کارروائیوں سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر سندھ حکومت نے رویہ تبدیل نہ کیا تو مہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ فنکشنل لیگ کے پارلیمانی لیڈر نند کمار گوکلانی نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی حکومت نہیں چاہتی کہ صوبے میں امن قائم ہو۔ رینجرز اختیارات کو محدود کرنے کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔ مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر اسماعیل راہو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے اسی لئے رینجرز اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔ تحریک انصاف سندھ کے صدر نادر اکمل خان لغاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کہ رینجرز معاشی دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ معاشی دہشت گردوں کو پیپلزپارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ رینجرز کے اختیارات پر قد غن ختم کی جائیں، ورنہ تحریک انصاف موجود ہ کرپٹ حکومت کے خلاف تحریک چلائے گی۔