سندھ میں آئینی بحران کا خدشہ

December 23, 2015 8:03 pm0 commentsViews: 35

وفاقی وزارت داخلہ نے سندھ حکومت کی تمام شرائط مسترد کرتے ہوئے رینجرز کو اختیارات دے دیے
گورنر راج لگا تو انتشار پورے ملک میں پھیل جائے گا،زرداری کا وفاقی حکومت کو پیغام
وفاق اور صوبے میں نئی محاذ آرائی کا آغاز ہوگیا، اٹھارہوں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت صوبے کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کی قرارداد کو مسترد کرسکتی ہے، قانونی ماہرین
کراچی میں رینجرز اب دہشت گردوں کے سہولت کاروں پر ہاتھ ڈال سکے گی، وفاقی حکومت نے سندھ اسمبلی کی قرارداد سے پہلے والے تمام خصوصی اختیارات دے دیے،وفاقی حکومت رینجرز کی حمایت میں نکل کر سامنے آگئی
کراچی( مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی دار الحکومت کے درمیان محاذ آرائی عروج پر پہنچ گئی سندھ میں آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ، آئینی ماہرین نے وفاق کے اقدامات کو اختیارات سے تجاوز قرار دے دیا۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کھل کر رینجرز کی حمایت میں سامنے آگئی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے سندھ حکومت کی تمام شرائط مسترد کرتے ہوئے رینجرز کے اختیارات میں آئین کے آرٹیکل 143 کے تحت 60 یوم کی توسیع کر دی ہے۔ سندھ کو جوابی خط کے ذریعے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں قد غن کسی طور قبول نہیں۔ رینجرز کو سندھ اسمبلی کی منظور کر دہ قرار داد سے پہلے تمام خصوصی اختیارات غیر مشروط طور پر پھر دے دئیے گئے ہیں اور اب وہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونین پر ہاتھ ڈال سکے گی۔ وفاقی حکومت کے اقدام کے نتیجے میں رینجرز اختیارات میں کمی کی سندھ حکومت کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں60 یوم کی توسیع کے بعد سندھ حکومت کیلئے صورتحال گھمبیر ہوگئی ہے اور اس ضمن میں مشاورت کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔ مشاورت کے دوران صوبائی حکومت کی رضا مندی کے بغیر رینجرز کو اختیارات دئیے جانے کے اقدام کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہائوس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مختلف آپشنز پر غور کیلئے اجلاس ہوگا۔ آئندہ48 گھنٹوں میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے احکامات کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل سامنے آنے کی توقع ہے علاوہ ازیں آئینی ماہرین کے مطابق وفاقی کی جانب سے سندھ میں رینجرز کے اختیارات بحال کرنے اور سندھ حکومت کی سفارش کو مسترد کرنے پر آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ آئینی ماہرین کے مطابق اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاق صوبے کے معاملات میںمداخلت نہیںکر سکتا اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کی منظور کی گئی قرار داد کو مسترد کر سکتا ہے۔ وفاق کی جانب سے رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے فیصلے کے ساتھ ہی سندھ میں گورنر راج کی افواہیں زور پکڑ گئیں جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے وفاقی وزیر داخلہ کے خلاف محاذ کھول دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو دو ٹوک پیغام بھجوایا ہے کہ سندھ میں گورنر راج نافذ کیا گیا تو حالات سندھ تک محدود نہیں رہیں گے۔ بلکہ انار کی اور انتشار کی صورتحال پورے ملک میں پھیل جائے گی جس سے ن لیگ کی حکومت کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر نے ن لیگ کی قیادت کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت اور رینجرز کے معاملے پر آگ سے کھیلنے سے خود کو باز رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں حکومت اور رینجرز میں تنائو کے تناظر میں کسی قسم کا اقدام اٹھایا تو وہ ن لیگ کی حکومت کیلئے مہلک اور خطرناک ہو گا کیونکہ پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں بڑی اپوزیشن اور سینیٹ میں اس کا مکمل کنٹرول ہے ان کے استعفوں سے وفاقی حکومت اور دیگر صوبائی حکومتوں کا وجود بھی خطرے میں پڑ جائے گا۔

رینجرز اختیارات کے حوالے سے
وفاقی حکومت کے نام سندھ حکومت کا خط
کراچی( کرائم رپورٹر) رینجرز اختیارات کے معاملے پر سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کے نام خط کا ڈرافٹ تیار کر لیا ہے ڈرافٹ 1973 کے آئین کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ ڈرافٹ قانونی ماہرین کی مشاورت سے رات گئے تیار کیا گیا۔ حکومت سندھ نے رینجرز اختیارات پر آرٹیکل 147 کی روشنی میں ڈرافٹ تیار کیا ہے۔ خط میں رینجرز کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ رینجرز کے اختیارات میں کمی کیلئے نہیں کہا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے خط کا ڈرافٹ نہ ماننے پر اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے اور حتمی ڈرافٹ پر دستخط کیلئے آج اجلاس بلایاجائے گا۔

 

Tags: