رینجرز اختیارات،سندھ حکومت کا وفاق کی ہدایت پر عملدر آمد کرنے سے انکار

December 25, 2015 2:25 pm0 commentsViews: 26

وفاقی حکومت کا اس طرح رینجرز کو اختیارات دینے کااقدام ماورائے آئین اورصوبائی خود مختاری پر حملہ ہے
سندھ حکومت کو رینجرز کی موجودگی کے حوالے سے شرائط عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے، وفاقی حکومت کے خط کا جواب
کراچی( اسٹاف رپورٹر) سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان رینجرز کو اختیارات دینے سے متعلق خط کا جواب دے دیا ہے ۔ سندھ حکومت نے اپنے جوابی خط میں کہا ہے کہ اس نے وفاقی حکومت کے خط اور ہدایت پر عمل درآمد سے صاف انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا اس طرح پاکستان رینجرز کو اختیارات دینے کا اقدام ماورائے آئین اور صوبائی خود مختاری پر حملہ ہے ۔ حکومت سندھ کے جوابی خط میں وفاقی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے آئینی فرائض سے انحراف کر رہی ہے ۔ جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا اقدام سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے اختیارات میں تجاوز ہے ۔ جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا خط آئین کے آرٹیکل147 کی مکمل نفی اور سندھ اسمبلی کی قرار داد سے متصادم ہے ۔ حکومت سندھ نے اپنے جوابی خط میں وفاقی حکومت کے خط کو مسترد کرتے ہوئے اس کے مندرجات کو غلط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اپنے 19 دسمبر 2015 والے خط پر قائم ہے ، جو اس نے وفاقی حکومت کو لکھا تھا ۔ جوابی خط میں وفاقی حکومت کو یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ سندھ حکومت ایک جمہوری اور آئینی حکومت ہے ، جسے سندھ کے عوام نے منتخب کیا ہے ۔ وہ آئین کے مطابق کام کرتی ہے اور وفاقی حکومت سے بھی یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ بھی آئین کے مطابق کام کرے ۔ جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ 16 دسمبر 2016ء کو صوبے میں رینجرز کی موجودگی کی توثیق کے لیے سندھ اسمبلی سے قرار داد منظور کراکے حکومت سندھ نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے ۔ آئین کا آرٹیکل 147 حکومت سندھ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ رینجرز کی موجودگی کے حوالے سے کوئی ایک شرط یا شرائط عائد کردے ، جنہیں وہ مناسب سمجھے ۔ وفاقی حکومت کا یہ کہنا کہ یہ شرائط غیر قانونی ہیں ، دراصل آئین کی جان بوجھ کر غلط تشریح ہے ۔ سندھ اسمبلی نے بھی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے ۔ جوابی خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ ’’11 ای ای ای ای ‘‘ کے تحت بھی کسی بھی شخص کی حفاظتی نظر بندی کا فیصلہ صوبائی حکومت کے حکم سے مشروط ہے ۔ جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ آئین کے تحت دیئے گئے اختیارات کو کسی قانون کے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا ۔