رینجرز اختیارات پر غلط فہمیاں جلد دور ہوجائیں گی‘ وزیر اعلیٰ سندھ

December 25, 2015 3:27 pm0 commentsViews: 19

قومی ایکشن پلان پر عملدر آمد کیلئے پرعزم ہیں‘ رینجرز اور پولیس کی قربانیاں قابل ستائش ہے
ہر ادارے کیلئے ضروری ہے کہ وہ آئینی و قانونی حدود میں کام کرے‘ وکلا کے وفود سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) و زیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کے درمیان رینجرز کے اختیارات سے متعلق بعض قانونی اور آئینی غلط فہمیاں ہیںجو کہ بہت جلد دور ہو جائینگی کیونکہ حکومت سندھ سیاسی اور ملٹری قیادت کی مشترکہ دانائی اور حکمت کے ذریعے شروع کئے گئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سندھ ہائی کورٹ بار ، کراچی بار اور ملیر بار ایسوسی ایشن کے وفد سے وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس ملاقات کے دوران صدر سندھ ہائی کورٹ بار خالد جاوید خان ، نائب صدر سرفراز نواز، جنرل سیکریٹری مبین لاکھو، صدر کراچی بار ایسوسی ایشن محمود الحسن ، نائب صدر کراچی بار شجاعت احمد ، جنرل سیکریٹری کراچی بار حق نواز ٹالپر، صدر ملیر بار ایسوسی ایشن اعجاز بنگش، صدر پیپلز لائیرز فور م قاضی ایم بشیر کے علاوہ سینیٹر تاج حیدر ،وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی ، راشد ربانی اور صدیق ابو بھائی بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں قیام امن کے لئے وہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے تعاون اور مدد کے شکر گزار ہیں، امن و امان کے قیام کے لئے پولیس اور رینجرز نے بے مثال قربانیاں دی ہیںجو کہ قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آئینی اور قانونی حدود میں رہ کر کام کرے ۔ انکا کہنا تھا کہ انکی حکومت کو مشرف کے دور سے امن و امان کی بدترین حالت ورثے میں ملی تھی اور اسی دور میں کراچی کور کمانڈرحملہ نشتر پارک سانحہ ، جنرل مشرف کے قافلے پر حملے سمیت دہشت گردی کے سنگین واقعات رونما ہوئے۔جن سے اس دور میں امن و امان کی صورتحال کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پی پی کی حکومت آتے ہی صوبہ سندھ میں بالعموم اور کراچی میں باالخصوص امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔ یہ امن و امان صرف زبانی بیانات پر قائم نہیں ہوا بلکہ حکومت سندھ نے اسکے لئے ٹھو س اقدامات اٹھائے ، بھاری رقوم خرچ کر کے پولیس کی تربیت اور استعداد کار میں اضافہ کیا، تمام انٹیلجنس ایجنسیوـں کے مابین مربوط رابطے کو یقینی بنایا اور سب سے بڑھ کر پولیس اور رینجرز کے جوانوں نے شہریوں کو امن فراہم کرنے کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلا ء کی جمہوریت کی بحالی کے لئے جدوجہد ناقابل فراموش ہے اور وکلا ء آئینی حکمرانی کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔