شرجیل میمن کے دور میں، واٹر بورڈ میں کروڑوں کی کرپشن کی تحقیقات شروع

December 29, 2015 4:59 pm0 commentsViews: 21

سابق وزیر کے دست راست سمیت واٹر بورڈ کے 2سابقہ ہائیڈرنٹ چیف انچارجز سمیت ہائیڈرنٹ سیل کا مکمل ریکارڈ طلب
ایم ڈی واٹر بورڈ نے نیب کے مطالبے پر ہائیڈرنٹس کے بارے میں مکمل رپورٹ کی تیاری کا کام شروع کردیا
کراچی( نیوز ڈیسک) واٹر بورڈ میں شرجیل میمن کے دور میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات شروع‘ نیب حکام نے شرجیل میمن کے دست راست سمیت واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دو سابق ہائیدرنٹ چیف وانچارجز سمیت ہائیڈرنٹ سیل کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے‘ پیر کے دن ایم ڈی واٹر بورد مصباح الدین فرید نے نیب کے مطالبے پر حال ہی میں تعینات کئے جانیوالے ہائیڈرنٹ انچارج تابش رضا اور ڈی ایم ڈی ٹیکنیکل افتخار احمد کو دونوں افسران اور ہائیڈرنٹ سیل کے حوالے سے مانگی جانیوالی مکمل تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے جس کے بعد واٹر بورڈ کے متعلقہ محکموں و افسران نے سابق وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کے دست راست راشد صدیقی اور نعمت اللہ مہر سے متعلق معلومات اور ہائیڈرنٹس کی مکمل تفصیل و آمدنی کے بارے میں جامع رپورٹ تیار کرنے کا کام شروع کردیا ہے‘ انتہائی جونیئر ہونے کے باوجود سندھ کے سابق وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن کے حکم پر ہائیڈرنٹ سیل کا چیف انجینئر تعینات ہونے کے بعد راشد صدیقی تقریباً دو سال تک واٹر بورڈ کے تمام ہائیڈرنٹس کی آمدنی ماہوار ایک کروڑ روپے سے بھی کم ظاہر کراتے رہے جبکہ ان کے جانے کے بعد ہائیڈرنٹس پر میٹر نصب کئے جانے کے بعد نصف ہائیڈرنٹس کی آمدنی پونے تین کروڑ روپے ماہوار سے تجاوز کرچکی ہے‘ واٹر بورڈ کے مصدقہ ریکارڈ کے اعداد و شمار کے مطابق ادارے کے قانونی ہائیڈرنٹس سے ماہوار کم از کم ڈیڑھ کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ45 ہائیڈرنٹس کو زمین کا پانی فروخت کرنے کی مد میں دی جانیوالی این او سی( اجازت ناموں) کے عوض دس سے پندرہ لاکھ روپے فی ہائیڈرٹنس سے وصول کئے گئے‘ واٹر بورڈکے مصدقہ ذرائع کے مطابق غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف منظم مہم جوئی کے بعد دوبارہ بحالی‘ سرکاری ہائیڈرنٹس کو انچارجوں و ٹھیکیداروں کی ملی بھگت کے ذریعے24 گھنٹے چلائے جانے کی مد میں واٹر بورڈ کو ماہانہ دس کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔