کے ایم سی میں غیر قانونی ترقیاں حاصل کرنے کے خلاف کارروائی سے گریز

December 29, 2015 5:26 pm0 commentsViews: 24

محکمہ ایچ آر آئوٹ آف ٹرن ترقیاں حاصل کرنے والے چند مخصوص افسران پر مہربان ہے
قواعد کو نظر انداز کرتے ہوئے افسران کو ترقیاں دی گئیں ہیں، سپریم کورٹ کے احکامات نظر انداز
کراچی(سٹی رپورٹر)بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اعلیٰ افسران کی سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرانے میںغیر سنجیدگی کا مظاہرہ،کے ایم سی میں آئوٹ آف ٹرن ترقی حاصل کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی سے محکمہ ایچ آر ایم گریزاں، آئوٹ آف ٹرن ترقیاں حاصل کرنے والے گریڈ18گریڈ19اور گریڈ20کے چند مخصوص افسران پر مہربانیاں جاری ہیں قوائد کے خلاف ترقیاں حاصل کرنے والوں میںمحکمہ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کے گریڈ19کے اے ڈی سنجنانی سر فہر ست ہیں جنھوں نے محکمہ ایس ایس ڈبلیو ایم سے اپنی نوکری ٹائر فارمولہ(اسپیشل کیڈر) کے تحت محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ کے ایم سی میں ضم کرواکرخلاف ضابطہ گریڈ19سے گریڈ20میں ترقی حاصل کی ترقی حاصل کر نے کے بعد اے ڈی سنجنانی نے ایکبار پھر اپنی انکوائری محکمہ سالڈ ویسٹمنتقل کروالی اس دوران بلدیہ عظمیٰ کراچی کے افسران نے سپریم کورٹ کے احکامات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اے ڈی سنجنانی کو نوکری منتقل کر نے کی این او سی جاری کردی اسی طرح ڈاکٹر محمد علی عباسی میڈیکل سپرنٹنڈنٹلیپروسی اسپتال نے 13سال کے دوران دو مرتبہ ترقی حاصل کی جبکہ قانون کے مطابق گریڈ19اور گریڈ20میں ترقی کیلئے کسی بھی افسرا کو 17سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے تاہم کے ایم سی کے محکمہ ایچ آر ایم نے قوائد کو یکسر نذر انداز کر تے ہوئے ڈاکٹر محمد علی عباسی کی ترقیوں کو جائز قرار دے دیا اسی طرح ڈاکٹر سراج الحق طارق ڈائو میڈیکل کالج بھی گریڈ18میں بھرتی ہوئے انھوں نے بھی موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنا تبادلہ امراض قلب اسپتال کے ایم سی میں کرواکر اپنی نوکری بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ میڈیکل اینڈ ہیلتھ میں ضم کروانے کے فوری بعدقوائد کے بر خلاف گریڈ18سے گریڈ19میں ترقی حاصل کر لی۔